Urdu book · مسائلِ اجتہاد

قناعت کامیابی کا راز

Urdu book, p. 177

By Maulana Wahiduddin Khan

قناعت کامیابی کا راز ایک عوامی مثل ہے۔ یہ مثل زندگی کی ایک اہم حقیقت کو بتاتی ہے اس مثل کے الفاظ یہ ہیں: ”آدھی چھوڑ کے پوری دھاوے، پوری ملے نہ آدھی پاوے“۔ اصل یہ ہے کہ انسان بیشتر حالات میں اپنی خواہشات اور اپنی امنگوں (ambitions) کے تحت سوچتا ہے اس بنا پر اکثر وہ ایسے اقدامات کر بیٹھتا ہے جو حقیقی حالات کے اعتبار سے اس کے لیے قابلِ حصول نہیں ہوتے، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا عمل انجام کے اعتبار سے مکمل ناکامی پر ختم ہوتا ہے، وہ ناممکن کو حاصل کرنے کی کوشش میں ممکن کو بھی کھو بیٹھتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اکثر مشہور مسلم رہنماؤں کی کہانی یہی ہے۔ انہوں نے حقائق کی رعایت کیے بغیر محض اپنی خواہشوں اور امنگوں کے تحت بڑی بڑی چھلانگ لگادی، اس کا نتیجہ ملت کے حصہ میں تباہی کے سوا کچھ اور نہ آیا۔ اس معاملہ کو سمجھنے کیلیے چند مثالیں لیجیے۔ 1۔ سردار شوکت حیات خاں مشہور پاکستانی لیڈر ہیں۔ وہ متحدہ پنجاب کے سابق وزیر اعظم مرحوم سکندر حیات خان کے صاحبزادے ہیں۔ سردار شوکت حیات خان نے اپنے کیریر کا آغاز دوسری جنگِ عظیم میں فوجی افسر کی حیثیت سے کیا۔ 1943 میں مسلم لیگ کی سیاست میں سرگرم طور پر شامل ہو گئے۔ پاکستان کے قیام کے بعد وہ پنجاب کے وزیر بنے اور وہاں کے دوسرے بڑے عہدوں پر فائز رہے۔ سردار شوکت حیات خان نے اپنی زندگی کے حالات پر ایک کتاب انگریزی زبان میں لکھی ہے، جس کا نام ہے ۔ دی نیشن ڈیٹ لوسٹ اُٹس سول: The Nation that Lost its Soul (1995, pp. 376) اس کتاب کا اردو ترجمہ ” گم گشتہ قوم“ دسمبر 1995ء میں پاکستان سے چھپا ہے۔ کتاب کا یہ اردو ایڈیشن 461 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کے ناشر جنگ پبلشرز لاہور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page