Urdu book · مسائلِ اجتہاد

نظریہ امن

Urdu book, p. 184

By Maulana Wahiduddin Khan

نظریہ امن Ideology of peace امن کیا ہے اہل علم امن کی تعریف عدم جنگ (absence of war) کے الفاظ میں کرتے ہیں۔ فنی اعتبار سے یہ تعریف بالکل درست ہے۔ کسی سماج میں جب تشدد اور جنگ نہ ہو تو اس کے بعد وہاں جو صورت حال پیدا ہوگی اسی کا نام امن ہے۔ جب بھی انسانوں کے درمیان جنگ اور تشدد کی حالت نہ ہو تو اُس کے بعد امن کی حالت اپنے آپ قائم ہو جائے گی۔ تاہم کسی سماج میں امن کی حالت قائم ہونا سادہ طور پر صرف یہ نہیں ہے کہ وہاں جنگ اور تشدد کا خاتمہ ہو گیا۔ جنگ اور تشدد کا ختم ہونا اس معاملہ کا سلبی پہلو ہے۔ اس کا ایجابی پہلو یہ ہے کہ جب بھی کسی سماج کے اندر حقیقی معنوں میں امن کی حالت قائم ہو جائے تو اُس کے بعد لازماً ایسا ہوگا کہ لوگوں کے اندر مثبت سرگرمیاں جاری ہو جائیں گی ۔ ہر آدمی یکسوئی کے ساتھ اپنی زندگی کی تعمیر میں لگ جائے گا۔ کسی سماج کے اندر امن کا قائم ہونا ایسا ہی ہے جیسے دریا کے سامنے سے بند کو ہٹا دیں۔ انسانی زندگی، بہتے دریا کی مانند، خود اپنے زور پر رواں دواں ہونا چاہتی ہے ۔ وہ صرف اُس وقت رُکتی ہے جب کہ اُس کے سامنے کوئی مصنوعی رکاوٹ کھڑی کر دی جائے۔ رکاوٹ نہ ہو تو خود فطرت کے زور پر زندگی کی تمام سرگرمیاں جاری ہو جائیں گی ۔ جنگ و تشدد کی حیثیت زندگی کے عمل میں رُکاوٹ کی مانند ہے۔ اور امن اپنے نتیجہ کے اعتبار سے یہ ہے کہ زندگی کی دوڑ کے تمام راستے آخری حد تک کھول دیے گئے ہوں۔ امن کا مطالعہ عام طور پر جنگ کے حوالہ سے کیا جاتا ہے۔ مگر یہ امن کا بہت محدود مفہوم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امن کا تعلق پوری انسانی زندگی سے ہے۔ امن اپنے آپ میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page