Urdu book · مضامین اسلام

طلاق اسلام میں

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

قابل قبول ہو۔ جب معاملہ کو ثالث کے سپرد کر دیا جائے تو اس وقت عورت اور مکوس ذہن کے تحت اس کا استقبال کرنا چاہیے، اس کا اندازہ خلافت راشدہ کے زمانہ کے ایک واقعہ سے ہوتا ہے۔ خلیفہ چہارم علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں یہ واقعہ پیش آیا کہ ایک عورت اور مرد کے درمیان ازدواجی جھگڑا ہوا۔ دونوں حضرت علی کے پاس آئے۔ آپ نے مذکورہ قرآنی آیت کے مطابق یہ حکم دیا کہ دونوں کے خاندان سے ایک ایک شخص کو لے کر نثالی بورڈ بنایا جائے۔ یہ ثالثی بورڈ دونوں کے حالات معلوم کرنے کے بعد جو فیصلہ دے اس کو دونوں بلا بحث مان لیں۔ اس کے بعد روایت کے الفاظ یہ ہیں : فقالتِ المرأة رضيتُ بكتاب الله عورت نے کہا کہ میں راضی ہوں اللہ کی کتاب لى وعلى - فقال الرجل اما الفرقة پر خواہ فیصلہ میرے موافق ہو یا میرے خلاف۔ فلا - فقال علی کذبت ، واللہ لا تبری مرد نے کہا کہ مگر تفریق کا فیصلہ مجھے منظور نہیں۔ حتى ترضی بمثل ما رضيت به حضرت علی نے فرمایا کہ تم نے جھوٹ کہا۔ خدا کی (جامع البیان للطبری، ۴۱/۵) قسم تم یہاں سے اٹھ نہیں سکتے جب تک تم اس طرح راضی نہ ہو جاؤ جس طرح عورت راضی ہوئی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سچے مومن کے اندر یہ آمادگی ہونا چاہیے کہ وہ قرآنی حکم کے مطابق، ثالث کو ماننے اور یہ بھی آمادگی ہونا چاہیے کہ ثالث جو فیصلہ دے اس کو وہ مزید بحث کے بغیر قبول کرلے۔ ۳- تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ زندگی کا نظام ہمیشہ مقرر انداز پر نہیں چلتا۔ چنانچہ سارے تحفظات کے باوجود ایسا ہوتا ہے کہ کچھ شادی شدہ جوڑے شادی کے بعد علیحدگی پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ ان کے اندر نکاح کے بعد طلاق کا رجحان پیدا ہو جاتا ہے۔ یہاں شریعت ان کی رہ نمائی اس طرح کرتی ہے کہ ان کے لیے طلاق کا ایک متعین ضابطہ مقرر کرتی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page