Urdu book · مضامین اسلام

طلاق اسلام میں

Urdu book, p. 111

By Maulana Wahiduddin Khan

عن عبد اللہ بن عباس قال، طلق رکانہ ابن یزید نے اپنی بیوی کو ایک رکانه بن عبد یزید ا‌مرأته مجلس میں تین طلاق دے دی۔ پھر وہ اس پر ثلاثا في مجلس واحد۔ فحزن عليها بہت غمگین ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حزنا شديدا - فسأله النبي صلى الله نے ان سے پوچھا کہ تم نے کس طرح طلاق دی۔ عليه وسلم - كيف طلقتها - قال ثلاثا انھوں نے کہا کہ ایک مجلس میں تین بار۔ رسول اللہ في مجلس واحد۔ فقال النبي صلى الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ سب ایک عليه وسلم۔ انما تلك واحدة فارتجعها ہی ہے۔ اگر تم چاہو تو اپنی بیوی سے مراجعت ان شئت (فتح الباری ۲۷۵/۹) کرلو۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص جذبات سے مغلوب ہو کر ایک ہی مجلس میں تینوں طلاق دینے کا اعلان کر دیتا ہے تو اگر چہ یہ شریعت کے مقرر طریقہ سے انحراف ہے اور اس اعتبار سے وہ آدمی گنہ گار ہے، تاہم انسانی کمزوری کی رعایت کرتے ہوئے اس کے فعل کو ایک لغو فعل قرار دیا جائے گا۔ اس کو تاکید بیان یا شدّتِ اظہار پر محمول کرتے ہوئے تین طلاق کو ایک طلاق قرار دیا جائے گا۔ ایسے آدمی سے کہا جائے گا کہ ایک شرعی مسئلہ میں تم نے جوزیادتی کی ہے اس کے لیے اللہ سے توبہ کرو اور تین کو ایک شمار کرتے ہوئے حسب منشا اپنی بیوی کے ساتھ معاملہ کرو۔ ۶۔ تاہم اس مسئلہ میں دورِ اول میں ایک مختلف مثال ملتی ہے۔ یہ مثال خلیفہ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ہے ۔ یہ مثال امام مسلم کی ایک روایت میں اس طرح بیان ہوئی ہے : عن ابن عباس ، قال کان الطلاق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور علی عہد رسول اللہ صلے اللہ علیہ ابو بکر صدیق کی خلافت کے زمانہ میں اور عمر وسلم والبكر وسنتين من کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں میں تین خلافة عمر طلاق الثلاث طلاق ایک ہی طلاق ہوتی تھی۔ پھر عمر بن واحدةً ۔ فقال عمر بن الخطاب خطابؓ نے کہا کہ لوگ اُس معاملہ میں جلد بازی ان الناس قد استعجلوا في امر کر رہے ہیں جس میں ان کے لیے مہلت تھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page