Urdu book · مضامین اسلام

طلاق اسلام میں

Urdu book, p. 113

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسری طرف وہ با اختیار حیثیت میں تھے کہ اس حکم کے نفاذ کے نتیجہ میں جو عورت نئے مسائل حیات سے دوچار ہوتی ہے ، اس کی بھی کامل تلافی کر سکیں ۔ مثلاً سماج کے اندر اس کے لیے با عزت زندگی کی ضمانت، طلاق کے بعد اگر وہ معاشی اعتبار سے ضرورت مند ہوگی ہے تو سرکاری بیت المال سے اس کے لیے مستقل گزارہ جاری کرنا ، وغیرہ ۔ آج اگر کوئی شخص تین طلاق کو نافذ کرنے کے لیے حضرت عمر فاروق کی نظیر پیش کرے تو اس سے پہلے اس کو خلیفہ جیسی با اختیار حیثیت کا مالک بنانا چاہیے ، اس کے بعد ہی اس کو یہ حق ہوگا کہ وہ خلیفہ دوم کے اس مسلک کا حوالہ دے یا اس پر عمل کرے ۔ کیوں کہ حضرت عمر کا مذکورہ فیصلہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے حاکم وقت کا ایک فیصلہ تھا نہ کہ سادہ طور پر صرف عالم یا مفتی کا ایک فیصلہ ۔ ۸ - یہاں ایک غلط فہمی کا ازالہ کرنا ضروری ہے ۔ خلیفہ دوم عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جب اپنا مذکورہ فیصلہ دیا تو بعض روایت کے مطابق صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے اختلاف کیا ۔ بقیہ صحابہ جو اس وقت مدینہ میں موجود تھے یا جن کے علم میں یہ بات آئی ، انہوں نے اس سے اختلاف کا اظہار نہیں کیا ۔ اس سے کچھ علماء نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اس مسئلہ پر صحابہ کا اجماع ہو چکا ہے ۔ محمد علی الصابونی لکھتے ہیں : واستدلوا باجماع الصحابة حين اس سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ اس قضی به عمر بن الخطاب رضی الله عنه پر صحابہ کا اجماع ہے ۔ کیوں کہ جب حضرت عمر فاقروه ولم ينكر احد من نے یہ فیصلہ دیا تو صحابہ نے اس سے اتفاق کیا الصحابة وقوع الثلاث بلفظ اور صحابہ میں سے کسی نے اس کا انکار نہیں واحد علی عمر بن الخطاب کیا کہ ایک بار میں تین طلاق دینے سے طلاق فدل ذلك علی الاجماع واقع ہو جاتی ہے ۔ پس اس سے ثابت ہوتا ( روائع البیان ۳۳۳/۱) ہے کہ اس پر اجماع ہے ۔ یہاں یہ سوال ہے کہ صحابہ نے کس چیز پر اتفاق کیا تھا ۔ صحابہ نے اس پر اتفاق نہیں کیا تھا کہ تین طلاق کو تین طلاق قرار دینا اصولاً درست ہے ۔ بلکہ ان کا اتفاق اس پر تھا کہ ایسا کرنا انتظامی آرڈر درست ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page