عقلی استدلال
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کا مطلب یہ ہے کہ اولا آدمی کے سامنے کچھ واقعات آتے ہیں۔ ان واقعات کی توجیہہ کے لیے اس کے ذہن میں ایک مفروضہ قائم ہوتا ہے ۔ اب وہ مزید مطالعہ شروع کرتا ہے۔ اگر مزید یا وسیع تر مطالعہ اس کے مفروضہ کی تصدیق کر لے تو مان لیا جائے گا کہ وہ حقیقت ہے۔ اس آخری مرحلہ میں پہنچ کر ابتدائی مفروضہ ثابت شدہ حقیقت (proved fact) بن جاتا ہے۔ اس کی ایک سادہ سی مثال یہ ہے کہ زمین پر قدیم انسان نے دیکھا کہ یہاں خشکی کے حصے بھی ہیں اور سمندر بھی۔ اس نے ابتدائی طور پر یہ مفروضہ قائم کیا کہ زمین پر آدھا حصہ خشکی ہے اور آدھا حصہ پانی۔ یہ مفروضہ یونانی فلسفیوں کے زمانے سے لے کر ابنِ خلدون تک قائم رہا۔ اس کے بعد خشکی اور سمندر کے سفروں سے آدمی نے یہ جانا کہ خشکی کے مقابلے میں پانی کا حصہ زمین پر زیادہ ہے۔ اس دوسرے مشاہدے سے پہلا مفروضہ رد ہو گیا۔ اب دوسرا مفروضہ یہ قائم ہوا کہ زمین پر پانی کا حصہ دو تہائی ہے اور خشکی کا حصہ ایک تہائی ۔ اس کے بعد مزید ذرائع انسان کو حاصل ہوئے اور یہ ممکن ہو گیا کہ خشکی کے حصے اور پانی کے حصے کی باقاعدہ پیمائش کی جا سکے۔ چنانچہ باقاعدہ پیمائش سے معلوم ہوا کہ زمین کی سطح پر پانی کا حصہ ۷۱ فی صد ہے اور خشکی کا حصہ ۲۹ فی صد ۔ بعد کے اس مشاہدہ نے دوسرے مفروضہ کی تصدیق کر دی اور وہ مسلمہ حقیقت کے طور پر مان لیا گیا۔ قرآن کا فلسفہ بھی تقریباً یہی ہے۔ البتہ مقدمات کی ترتیب کے اعتبار سے دونوں میں معمولی فرق پایا جاتا ہے۔ قرآن کا فلسفہ یا قرآن کا طریقِ تفکیر معمولی فرق کے ساتھ یہ ہے کہ اس میں سب سے پہلے "مفروضہ" قائم ہوتا ہے۔ اس کے بعد "مشاہدہ" کی روشنی میں اس پر غور وفکر کیا جاتا ہے ۔ اور پھر آخر میں "تصدیق" کا درجہ آتا ہے ۔ یعنی قرآن کے دعویٰ (مفروضہ) کو لے کر اس پر غور کرنا۔ اور پھر غور و فکر کی سطح پر مفروضہ کی واقعیت ثابت ہونے کے بعد اس کو مسلمہ حقیقت مان لینا ۔ اسی آخری درجہِ معرفت کا نام قرآن کی اصطلاح میں ایمان ہے۔ گویا سائنس کے طریقِ علم کی ترتیب یہ ہے کہ مشاہدہ۔ مفروضہ ۔ تصدیق ۔ اس کے بجائے قرآن کے طریقِ علم کی ترتیب یہ ہے کہ مفروضہ ۔ مشاہدہ۔ تصدیق : Science: observation-hypothesis-verification. Qur'an: hypothesis-observation-verification.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader