Urdu book · مضامین اسلام

مذہب کی طرف

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

کی تعبیر خدا کے بغیر کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ ہر معاملہ میں ایسی تشریح کرنے کی کوشش کی گئی جس سے یہ ثابت ہو کہ کائنات کے پیچھے کوئی ذہن یا شعور نہیں۔ مگر کائنات کی غیر خدائی تشریح کی ہر کوشش ناکام ہوگئی۔ ہندوستان کے مشہور سائنس داں ڈاکٹر سبرانیم چندرشیکھر جن کو ۱۹۸۳ میں فرکس کا مشترکہ نوبیل پرائز ملا تھا۔ وہ اپنے آپ کو ملحد (atheist) کہتے ہیں۔ انھوں نے اس معاملہ میں سائنس کی موجودہ پوزیشن کا خلاصہ چند لفظوں میں اس طرح بتایا ہے: There are aspects which are extremely difficult to understand. A famous remark of Einstein - and other people have said similar things, Schrodinger in particular - that the most incomprehensible thing about nature is that it is comprehensible. How is it that the human mind, extremely small compared to the universe and living over a time span microscopic in terms of astronomical time, comprehend reality in ideas which spring from the human mind? This question has puzzled many people from Kepler on. Why should mathematical description be accu- rate? Mathematical description is something the human mind has evolved. Why should it fit external nature? We do not have answers to these questions. One is not saying the world is orderly and therefore must be ordered. But why should we understand the world in terms of the concepts we have developed? The Hindustan Times, May 31, 1987, New Delhi. کائنات میں ایسے پہلو ہیں جن کا سمجھنا انتہائی حد تک مشکل ہے۔ آئنسٹائن اور دوسرے سائنس دانوں نے بھی ایسا ہی کہا ہے۔ شرو ڈنگر کے الفاظ میں فطرت کے متعلق سب سے زیادہ ناقابل فہم بات یہ ہے کہ وہ قابل فہم ہے۔ ایسا کیوں کر ہے کہ انسانی دماغ جو کائنات کے مقابلہ میں بہت ہی چھوٹا ہے اور فلکیاتی وقت کے مقابلہ میں، جس کی مدت بہت ہی کم ہے، وہ حقیقت کو ایسے خیالات کے ذریعہ سمجھتا ہے جو انسانی دماغ کی پیدا وار ہیں۔ اس سوال نے کیپلر سے لے کر اب تک بہت سے لوگوں کو سراسیہ کر رکھا ہے۔ کیوں یہ ضروری ہے کہ ریاضیاتی تشریحات بالکل درست ہوں۔ ریاضیاتی تشریح ایک ایسی چیز ہے جس کو انسانی دماغ نے ایجاد کیا ہے۔ پھر کیوں وہ خارجی فطرت کے مطابق ہو جاتی ہے۔ ہم ان سوالات کا جواب نہیں جانتے۔ اس کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دنیا میں نظم ہے اس لئے اس کا کوئی ناظم ہونا چاہئے۔ مگر کیوں ایسا ہے کہ ہم کائنات کو ان اصطلاحوں میں سمجھتے ہیں جن کو ہم نے خود وضع کیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page