Urdu book · مضامین اسلام

حفاظتی ڈھال

Urdu book, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

مفید شعاعیں انسانوں تک پہنچ سکیں۔ اب دوسرے رخ کو دیکھئے جو بیسویں صدی کے نصف آخر میں ہمارے سامنے آیا ہے۔ انسان نے ساٹھ سال پہلے وہ چیز دریافت کی جس کو ایئر کنڈیشنگ کہا جاتا ہے۔ اس دریافت نے انسان کو غیرمعمولی طور پر راحت کا سامان دیا۔ ایئر کنڈیشینڈ مکان اور دفاتر اور مختلف بلڈنگیں ماڈرن زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ جب یہ صنعت دریافت ہوئی تو وہ خیر ہی خیر نظر آتی تھی، مگر جدید تحقیقات نے بتایا کہ اس خیر میں شر بھی چھپا ہوا ہے۔ موجودہ ایئر کنڈیشنگ کا سسٹم سی ایف سی پر مبنی سسٹم (cfc-based system) ہے۔ سی ایف سی ٹکنالوجی آج انسان کے لیے زبردست خطرہ بن گئی ہے۔ سی ایف سے مراد کلوروفلورو کاربن (chlorofluorocarbons) ہے۔ یہ ایک کیمیکل ہے جو ایئر کنڈیشنگ کے سامانوں کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کیمیکل کو تیار کرنے کے لیے جو کارخانے بنائے گئے ہیں وہ اس کی تیاری کے دوران ایک ضمنی پیداوار (by-product) تیار کرتے ہیں جس کو سی آئی او یا کلورین مونو آکسائڈ (chlorine monoxide) کہا جاتا ہے۔ یہی سی آئی او کا مادہ ہے جو دراصل اوزون کی تہ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ حتیٰ کہ اس نے بالائی فضا میں ایک بڑا سوراخ پیدا کر دیا ہے جس سے سورج کی مذکورہ مضر شعاعیں زمین پر آنا شروع ہو گئی ہیں۔ اب امریکہ وغیرہ میں بہت بڑے پیمانے پر ریسرچ ہو رہی ہے تا کہ کوئی ایسا متبادل مادہ دریافت کیا جائے جس کے ذریعہ مذکورہ مضر کیمیکل پیدا کیے بغیر ایئر کنڈیشنگ کے سامان بنائے جاسکیں۔ اب یہاں دو نمونے ہیں۔ ایک فطرت (نیچر) کا۔ دوسرے انسانی صنعت کا۔ فطرت کا نمونہ بتاتا ہے کہ اس میں پیشگی طور پر یہ انتظام موجود تھا کہ سورج کی مضر شعاعیں زمین کی سطح تک نہ پہنچیں۔ تاکہ انسان محفوظ طور پر زمین پر آباد ہو سکے۔ دوسری طرف صنعتی دور کے صنعت کاروں کو پیشگی طور پر یہ معلوم نہ ہو سکا کہ ان کی ایئر کنڈیشنگ کی صنعت فطرت کے قیمتی توازن کو توڑ دے گی اور انسان کے لیے سخت ناموافق صورت حال پیدا ہو جائے گی۔ یہ صورت حال اس بات کا ثبوت ہے کہ کائنات کی تخلیق اور اس کی منصوبہ بندی کے پیچھے ایک بالا تر خدائی ذہن کی کار فرمائی ہے۔ اگر یہاں ایسے ذہن کی کار فرمائی نہ ہوتی تو فطرت کے نظام میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page