اسلام میں عدل اجتماعی
Urdu book, p. 83
By Maulana Wahiduddin Khan
برابری کا انصاف دینے سے انکار کر سکیں ۔ مثلاً ہندوستان میں اس فرق کو دیکھ کر ورن کا عقیدہ پیدا ہوا ۔ ورن کے لفظی معنی رنگ کے ہوتے ہیں ۔ لوگوں نے دیکھا کہ ایک انسان اور دوسرے انسان کے رنگ میں فرق ہے ، اس سے انھوں نے یہ اخذ کیا کہ ایک قسم کے رنگ والے خدا کے سر سے پیدا ہوئے ہیں اور دوسرے قسم کے رنگ والے خدا کے پاؤں سے : Indian society is made up of four different varnas. The Rigveda (10.90) has declared that the Brahmin, the Ksatriya, the Vaisya, and the Sudra issued forth at creation from the mouth, arms, thighs and feet of Purusa. (X/361) یورپ میں نسلی امتیاز کا نظریہ (racism) پچھلی صدیوں میں شدت کے ساتھ پھیلا۔ اور اب تک وہ کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے۔ ابتداً یہ ذہن اس لیے پیدا ہوا کہ اہل یورپ نے اپنے اور دوسروں کے درمیان رنگ اور کلچر میں فرق پایا۔ اس سے انھوں نے یہ نظریہ قائم کر لیا کہ وہ دوسروں سے برتر (superior) ہیں اور دوسرے لوگ ان سے کمتر (inferior) موجودہ زمانہ میں نظریہ ارتقاء کے ظہور نے اس کو مزید پختہ کر دیا۔ کیوں کہ سماجی ڈارونیت (Social Darwinism) کے تحت یہ سمجھ لیا گیا کہ انسانیت مختلف ارتقائی مرحلوں سے گزری ہے اور مغربی تہذیب اس کا درجہ کمال ہے : Mankind was regarded as having achieved various levels of evolution, culminating in the white-European civilization. (15/363) اس کے مطابق ، یورپ کے سفید فام لوگ ارتقایا فتہ نسل قرار پائے اور دوسرے غیر سفید فام طبقے عملی ارتقاء میں پیچھے رہ جانے والے لوگ ۔ قدیم زمانہ میں نسلی فرق کے بارہ میں تو ہماتی نظریات کی بنا پر امتیاز کا ماحول پیدا ہوا تھا۔ موجودہ زمانہ میں ڈارون کے نظریہ ارتقا نے بظاہر اس امتیاز کے حق میں ایک علمی بنیاد فراہم کر دی۔ کیوں کہ اس نے بتایا کہ بہت سے انسانی گروہ ارتقائی عمل میں دوسروں سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ کچھ گروہ عمل ارتقاد میں اعلیٰ (superior) ہو گئے اور کچھ دوسرے گروہ پیچھے رہ کر ارتقا کے ابتدائی مرحلہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader