Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

تمهید

Urdu book, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

تصنیفات کی جدید تقسیم کے مطابق زیر نظر کتاب معروضی مطالعہ (objective study) کی مثال پیش نہیں کرتی۔ بلکہ وہ موضوعی یا داخلی (subjective) انداز میں لکھی گئی ہے۔ یہ جدید ذہن کے نزدیک گویا کتاب کے خلاف خود کتاب کا ووٹ ہے۔ کیوں کہ جو مطالعہ جانبدارانہ ذہن کے تحت کیا گیا ہو، اس کی صداقت کا یقین کیسے کیا جا سکتا ہے۔ اس کے جواب میں، میں آسٹریلن نومسلم علامہ اسد کا جملہ نقل کروں گا۔ انھوں نے اپنی کتاب کے اسی انداز کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے: It does not pretend to be a dispassionate survey of affairs; it is statement of a case of Islam versus western civilisation. (Islam at the Crossroads. p. 6) یعنی اس کتاب میں مصنوعی طور پر غیر جانبدارانہ سروے کا طریقہ اختیار نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس کا انداز ایک مقدمہ جیسا ہے۔ اسلام کا مقدمہ مغربی تہذیب کے مقابلے میں۔ کتاب میں اکثر ’’مذہب‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اس سے کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔ یہ کتاب چوں کہ ایک عمومی موضوع پر ہے اس لیے اس کی مناسبت سے عمومی لفظ زیادہ موزوں تھا۔ مصنف کا ذہن اس بارے میں بالکل صاف ہے کہ مذہب سے مراد کوئی موہوم چیز نہیں بلکہ صرف وہ ہے جو آج مذہب کی حیثیت سے خدا کے یہاں مسلم ہے۔ یعنی اسلام۔ اگر ہندوستان کے کسی شہری سے کہا جائے کہ تمھیں قانون کی پیروی کرنی ہوگی، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی بھی مجموعہ الفاظ جس پر قانون یا قانون ہند کا اطلاق ہو سکتا ہو، بس اس کی پیروی کر لینا کافی ہے۔ بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ وہ قانون جو آج ہندوستانی باشندوں کے لیے قانون کی حیثیت رکھتا ہے، اس کو ماننا اور اس کی تعمیل کرنا۔ اسی طرح آج عملی طور پر مذہب سے مراد صرف اسلام ہے۔ اگر چہ لغت کے اعتبار سے اس کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جو مذہب کے نام سے مشہور ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page