کائنات خدا کی گواہی دیتی ہے
Urdu book, p. 69
By Maulana Wahiduddin Khan
دوری پر چل رہے ہوں کہ انھیں ایک دوسرے کی خبر نہ ہو۔ یہ ساری کائنات ستاروں کے بے شمار جھرمٹوں کی صورت میں ہے۔ ہر جھرمٹ کو کہکشاں کہتے ہیں، اور یہ سب کے سب مسلسل حرکت میں ہیں۔ سب سے قریبی حرکت جس سے ہم واقف ہیں، وہ چاند ہے، چاند زمین سے دولاکھ چالیس ہزار میل دور رہ کر اس کے گرد مسلسل اس طرح گھوم رہا ہے کہ ہر ساڑھے 29 دن میں زمین کے گرد اس کا ایک چکر پورا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ہماری زمین جو سورج سے ساڑھے نو کروڑ میل دور ہے، وہ اپنے محور پر ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھومتی ہوئی سورج کے گرد انیس کروڑ میل کا دائرہ بناتی ہے جو ایک سال میں پورا ہوتا ہے۔ اسی طرح زمین سمیت نو سیارے ہیں، اور وہ سب کے سب سورج کے گرد مسلسل دوڑ رہے ہیں۔ ان سیاروں میں بعید ترین سیارہ پلوٹو ہے جو ساڑھے سات ارب میل کے دائرہ میں چکر لگا رہا ہے۔ یہ تمام سیارے اپنے سفر میں اس طرح مصروف ہیں کہ ان کے گرد اکتیں چاند (2020 کی سائنسی تحقیق کے مطابق، 640 چاند) بھی اپنے اپنے سیاروں کے گرد گھوم رہے ہیں۔ ان کے علاوہ تیس ہزار چھوٹے سیاروں (asteroids) کا ایک حلقہ (2020 میں امریکی خلائی ادارہ ناسا کے مطابق، چھوٹے سیاروں کی تعداد 1,068,760) ہے۔ ہزاروں دم دار ستارے اور لاتعداد شہاب ثاقب ہیں، جو اسی طرح گردش میں مصروف ہیں۔ ان سب کے بیچ میں وہ ستارہ ہے، جس کو ہم سورج کہتے ہیں، اور جس کا قطر (diameter) آٹھ لاکھ 65 ہزار میل ہے، اور وہ زمین سے بارہ لاکھ گنا بڑا ہے۔ یہ سورج خود بھی رکا ہوا نہیں ہے بلکہ اپنے تمام سیاروں اور سیارچوں کو لیے ہوئے ایک عظیم کہکشانی نظام کے اندر چھ لاکھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گردش کر رہا ہے، اسی طرح ہزاروں حرکت کرتے ہوئے نظام ہیں، جن سے مل کر ایک کہکشاں وجود میں آتی ہے، کہکشاں گویا ایک بہت بڑی پلیٹ ہے، جس پر بے شمار ستارے انفرادی طور پر اور جھرمٹ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader