کائنات کی مشینی تعبیر
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
اگر چہ اس اصول کے مطابق کائنات کے تمام مظاہر کی تشریح کرنے میں ابھی سائنس دانوں کو کامیابی نہیں ہوئی تھی مگر ان کا یقین تھا کہ کائنات کی تشریح میکانکی پیرائے (mechanical model) میں ہو سکتی ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ تھوڑی سی کوشش کی ضرورت ہے اور بالآخر تمام عالم ایک مکمل چلتی ہوئی مشین ثابت ہو جائے گا۔ ان باتوں کا انسانی زندگی سے تعلق صاف ظاہر تھا۔ اصول تعلیل کی ہر توسیع اور قدرت کی ہر کامیاب میکانکی تشریح نے اختیار انسانی پر یقین کرنا محال بنا دیا کیونکہ اگر یہ اصول تمام قدرت پر حاوی ہے تو زندگی اس سے کیوں مستثنی ہو سکتی ہے۔ اس طرز فکر کے نتیجہ میں سترہویں اور اٹھارھویں صدی کے میکانکی فلسفے وجود میں آئے جب یہ دریافت ہوا کہ جاندار خلیہ (living cell) بھی بے جان مادہ کی طرح محض کیمیائی جوہروں سے بنا ہے تو فوراً سوال پیدا ہوا کہ وہ خاص اجزاء جن سے ہمارے جسم و دماغ بنے ہوئے ہیں کیوں کہ اصول تعلیل کے دائرے سے باہر ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ یہ گمان کیا گیا بلکہ بڑے جوش کے ساتھ دعوی کر دیا گیا کہ زندگی میں ایک خالص مشین ہے۔ یہاں تک کہا گیا کہ نیوٹن، باخ (Bach) اور مائیکل اینجلو (Michel Angelo) کے دماغ چھاپنے والی مشین سے صرف پیچیدگی میں مختلف تھے، اور ان کا کام صرف یہ تھا کہ بیرونی محرکات کا مکمل جواب دیں۔ مگر سائنس اس سخت اور غیر معتدل قسم کے اصول علیت کی اب قائل نہیں ہے۔ نظریہ اضافیت اصول تعلیل کو دھوکے (illusion) کے لفظ سے یاد کرتا ہے۔ انیسویں صدی کے آخر ہی میں سائنس پر یہ واضح ہو گیا تھا کہ کائنات کے بہت سے مظاہر، بالخصوص روشنی اور قوت کشش، میکانکی تشریح کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader