Urdu book · میوات کا سفر

پندرہواں سفر

Urdu book, p. 212

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ مسجد حاجی دراب خاں کے خاندان نے بنوائی تھی ۔ مدرسہ بھی ان ہی لوگوں نے قائم کیا تھا۔ مولانا عبدالرحیم صاحب دہان گویا ان کے ایک " ملازم " تھے۔ ایسی حالت میں ان کی یہ جسارت بالکل ناقابل برداشت تھی۔ اس قسم کی اور بہت سی باتیں تھیں جن کی وجہ حاجی دراب کی " اس مولوی سے لڑائی رہتی تھی " ، مگر مولانا عبدالرحیم نے بتایا کہ اس کے باوجود کبھی ایسا نہیں ہو کہ حاجی دراب ان کے بارہ میں مخالفانہ رول ادا کریں ۔ مولانا عبدالرحیم ایک با اصول آدمی ہیں اور اسی کے ساتھ صاف گو ہیں۔ چنانچہ گاؤں کے لوگوں سے کسی نہ کسی بات پر ان کی تکرار ہو جاتی تھی۔ مثلاً وہ یہاں مسجد کے امام بھی تھے ۔ مقرروقت پر وہ ٹھیک گھڑی کے لحاظ سے جماعت شروع کر دیتے تھے ، خواہ کوئی آیا ہو یا نہ آیا ہو۔ بعض لوگوں کو یہ بات بہت ناگوار ہوتی تھی۔ اس طرح کی باتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ کئی لوگ ان کے خلاف ہو گئے۔ حتی کہ انھوں نے گاؤں کی اکثریت کو اپنے موافق بنا لیا اور عام رائے یہ ہو گئی کہ ان کو مدرسہ سے نکال دیا جائے اور ان کی جگہ دوسرے آدمی کو لایا جائے ۔ مگر حاجی دراب اس تحریک کے سخت مخالف ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ " اگر چہ اس مولوی سے میری ذاتی لڑائی ہے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ مدرسہ کے کام کے لیے وہ نہایت موزوں ہے، اس کو ہٹانے کے بعد ایسا لائق معلم ہم کو نہیں مل سکتا۔ اس لیے انھوں نے اختلاف کو نظر انداز کرتے ہوئے مولوی عبد الرحیم صاحب کی بھر پور حمایت کی ۔ ذاتی شکایت کے باوجود اعتراف اور قدر دانی کی یہ صفت اتنی کم یاب ہے کہ کم از کم میں نے اپنے تجربہ میں اب تک کوئی دوسرا حاجی دراب نہیں دیکھا۔ " حاجی دراب خاں " بظاہر ایک معمولی آدمی ہیں مگر میرے نزدیک وہ آنے والے عظیم میوات کی علامت ہیں ۔ وہ میوؤں کے تاریک حال میں اس کے روشن مستقبل کو بنا رہے ہیں۔ میو قوم اگرچہ اپنی جہالت اور اپنی بے شعوری کی وجہ سے ہندوستان کی ایک پچھڑی ہوئی قوم بنی ہوئی ہے ۔ مگر فطری امکانات کے اعتبار سے وہ ایک جاندار قوم ہے۔ باعتبار واقعہ اگرچہ یہ دوسروں سے پیچھے ہیں۔ مگر باعتبار امکان آج بھی وہ دوسروں سے آگے ہیں۔ ذاتی شکایتوں کو نظر انداز کر کے کسی کی خوبیوں کا اعتراف کرنا ، اعلیٰ ترین انسانی صفت ہے ۔ حاجی دراب کی مثال

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page