پندرہواں سفر
Urdu book, p. 214
By Maulana Wahiduddin Khan
میں ڈالنے والی چیز کنارے سے ڈالی جاتی ہے اور اس کو ہاتھ سے دھکیلنا پڑتا ہے۔ اس بنا پر یہ خطرہ رہتا ہے کہ ہاتھ اس کے اندر چلا جائے ۔ مگر یہ پرانا طریقہ ہے۔ باہر کے ملکوں میں اب ایسے تھریشر بنائے گئے ہیں جن میں کٹی ہوئی فصل کے گٹھٹ بنا کر اوپر سے ڈال دیتے ہیں ،ٹھیک ویسے ہی جیسے آٹا پیسنے والی مشین میں غلہ اوپر سے ڈال دیا جاتا ہے ۔ اس دوسری قسم کے تھریشر میں یہ امکان ہی نہیں کہ ہاتھ کو مشین پکڑلے ۔ ہر سال اخباروں میں تھریشر سے ہاتھ کٹنے کی خبریں چھپتی ہیں۔ مگر تعجب ہے کہ ہندستانی مشینوں کا طرز ابھی تک بدلا نہیں گیا ۔ ہم لوگ بستی میں چل رہے تھے کہ ایک عورت گود میں ایک بچہ لیے ہوئے سامنے آئی۔ اس نے مولانا عبد الرحيم صاحب بدیدوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : میری بہن کو خون کٹ رہو ہے ، اس کو ٹکس بنا دے (میری لڑکی کو خون کی پیچش ہو رہی ہے ، اس کے لیے تعویذ لکھ دو ) میوات کا سب سے بڑا مسئلہ اس کی جہالت ہے۔ یہاں کے بیشتر لوگ ناخواندہ یا نیم خواندہ ہیں۔ اس کی وجہ سے یہاں کی زندگی میں رسوم اور توہمات کا اتنا غلبہ ہے کہ اس کے نیچے میوؤں کی پوری زندگی دب کر رہ گئی ہے۔ خاص طور پر عورتیں تو بالکل ہی ان پڑھ ہیں۔ شاذونادر ہی ایسی عورتیں ملیں گی جو ایک خط بھی لکھ سکتی ہوں ۔ علم کی اہمیت زندگی میں جتنی زیادہ ہے، میوؤں کے یہاں اس کی اہمیت اتنی ہی کم نظر آتی ہے۔ گلیارہ قصبہ کی تقریباً تمام دوکانیں دوسری اقوام کی ہیں ۔ مسلمانوں کی کوئی ایک بھی قابل ذکر دوکان نہیں ۔ صبح کے وقت میں قصبہ کے اندر سے گزراتو میں نے دیکھا کہ دکاندار اپنی دوکان کے سامنے بیٹھے ہوئے ہندی اخبار پڑھ رہے ہیں۔ جب کہ میوؤں کے لیے اخبار پڑھنا ابھی تک ایسا ہی ہے جیسے چاند پر سفر کرنا۔ اسی بے علمی کی وجہ سے میو تجار تو یوں میں داخل نہ ہو سکے اور زراعت (زمیندارہ) جس میں ان کے تمام مرد وعورت اور چھوٹے بڑے لگے رہتے ہیں ، ان میں بھی وہ زیادہ ترقی نہ کر سکے ۔ تاہم پہلے اسفار کے مقابلہ میں اس بار مجھے کئی میو زمیندار کے یہاں ٹریکٹر اور ٹیوب ویل نظر آیا ۔ جو کہ پہلے نایاب تھا۔ میو ترقی کر رہے ہیں۔ مگر اس کی رفتار اتنی کم ہے کہ خورد بینی مشاہدہ کے ذریعہ ہی اس کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader