پندرہواں سفر
Urdu book, p. 217
By Maulana Wahiduddin Khan
عمارتیں کھڑی ہوئی ہیں تو اس کو خوب چندہ ملے گا، اور کوئی مدرسہ چہروں میں ہو تو اس کو کوئی چندہ دینے والا نہیں ۔ یہی حال زندگی کے تمام معاملات کا ہے ۔ میوات میں ایک مثل ہے کہ دو آدمیوں نے طے کیا کہ وہ مل کر گنا بوئیں گے اور جب گنا تیار ہو جائے گا تو اس کو توڑیں گے ۔ اب ایک شخص نے کہا کہ " میں گنا توڑوں گا کڑاک سے " دوسرے شخص نے کہا : " میں بھی توڑوں گا کڑاک سے " یہ سن کر پہلے شخص نے کہا کہ میں نے تو ایک گنا توڑ اٹھتا، تم نے دو توڑ لیے ۔ اس پر تکرار ہوئی، یہاں تک کہ دونوں آپس میں لڑگئے ۔ یہ مثل میواتوں کی کہانی بھی ہے اور عام مسلمانوں کی کہانی بھی ۔ اس وقت تمام مسلمانوں کا حال یہی ہے کہ کرنے کا کام تو کوئی نہیں کرتا ۔ البتہ کیا کام کرنا ہے ، اس پر خوب بحثیں ہورہی ہیں ۔ گویا گنے کی فصل تو اگائی نہیں گئی ، اور گنے کی حصہ داری پر لڑائیاں جاری ہیں ۔ بحث میں ہر آدمی آگے ہے ، مگر عمل میں ہر آدمی پیچھے ۔ گلپارہ میں ایک میو حاجی گل خاں نام کے تھے ۔ ۱۹۷۸ء میں ان کا انتقال ہو گیا۔ اس سے پہلے ان سے میری ملاقات ہوچکی ہے ۔ وہ نہایت سنجیدہ اور نیک آدمی تھے ۔ موجودہ سفر میں ان کے صاحبزادے فیروز خاں سے ملاقات ہوئی ۔ اسی کے ساتھ حاجی صاحب مرحوم کے بھتیجے (ملھو) کے لڑکے فخر الدین عرف فجر و بھی ملے ۔ یہ لوگ اپنی سادگی ، خاموش طبعی اور دینی مزاج کے معاملہ میں حاجی گل خاں مرحوم کی تصویر ہیں ۔ گلپارہ سے رسول پور تقریباً تین کلومیٹر کے فاصلہ پر اندر کی طرف ہے۔ یہاں سڑک نہیں ۔ میں اندرون میوات کا نقشہ دیکھنے کے لیے یہاں جانا چاہتا تھا ۔ یہ فاصلہ ٹریکٹر کے ذریعہ طے کیا۔ چونکہ اس موسم میں بارشیں بہت کم ہوتی ہیں ۔ اس لیے سارا راستہ گرد کی دلدل بنا ہوا تھا۔ ٹریکٹر کو فیروز خاں اور فجر الدین چلا رہے تھے ۔ وہ ایک پر شور مشین کے خاموش ڈرائیور تھے۔ یہ سفر اس طرح طے ہوا کہ کپڑے گرد میں اٹ رہے تھے۔ گدی کے بجائے لوہے پر نشست تھی اور مسلسل ہکوپہ اس کے علاوہ تھے ۔ میرا خیال ہے کہ ہر وہ شخص جس نے کار کی سواری کی ہے اس کو ٹریکٹر کی سواری بھی کرنا چاہیے ۔ اسی طرح ہر شخص جو ٹریکٹر پر بیٹھا ہے اس کو کار پر بیٹھنا چاہیے۔ ان دونوں سفروں کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader