پندرہواں سفر
Urdu book, p. 219
By Maulana Wahiduddin Khan
سے بہتر ماڈل تجویز نہیں کیا جاسکتا۔ مخلوقات کا معیارِ کمال پر ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کا خالق بھی آخری معیار کمال پر ہے۔ کامل خالق کے بغیر کامل تخلیق کا وجود ممکن نہیں۔ نیلے آسمان کے نیچے ابھری ہوئی پہاڑیاں، ہرے بھرے درخت، آکسیجن سے بھری ہوئی خالص ہوا فطرت کے اس حسین ماحول میں انسان اپنے آپ کو خدا کے بالمقابل محسوس کرنے لگتا ہے آج کل شہروں کے لوگ اپنے فرصت کے اوقات کو سینما اور ٹیلی ویژن کے ماحول میں گزارتے ہیں۔ اس کے برعکس انھیں اپنے فرصت کے اوقات کو شہر سے باہر فطرت کے ماحول میں گزارنا چاہیے۔ "ٹیلی ویژن، آدمی کو دوبارہ مصنوعاتِ انسانی کی اسی دنیا میں گم کر دیتا ہے جس میں وہ اس سے پہلے گم تھا۔ اس کے برعکس کھلے ہوئے جغرافیہ کا ماحول آدمی کو مصنوعاتِ خداوندی کی دنیا میں پہنچا دیتا ہے، وہ دنیا جہاں انسان اور خدا آمنے سامنے ہو جلتے ہیں ۔ جہاں آدمی اپنے رب سے ملاقات کرتا ہے۔ جہاں آدمی اپنے رب سے سرگوشیاں کرتا ہے۔ جہاں وہ ظواہر سے گزر کر حقیقتِ اعلیٰ کو پاللیتا ہے۔ ۱۹ اکتوبر ۱۹۷۸ء کی صبح کو واپسی ہوئی۔ گلپاڑہ سے دوبارہ میں بذریعہ بس روانہ ہوا۔ اور پہاڑی، میواں، فیروز پور، نوح، سوہنا ، گورگ گاؤں ہوتے ہوئے ۱۲ بجے دن میں دہلی واپس پہنچا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader