Urdu book · مطالعۂ حدیث

آغاز کلام

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

ایسی حالت میں ہر انسان کی یہ ایک لازمی ضرورت ہے کہ پختہ عمر کو پہنچنے کے بعد وہ اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشنگ (de-conditioning) کرے۔ وہ اپنے ذہن کے اوپر چڑھی ہوئی مصنوعی تہوں کو ہٹائے تا کہ وہ حقیقتوں کو اس فطری ذہن کے ساتھ دیکھے اور سمجھے جو خالق حقیقی کی طرف سے اس کو پیدائشی طور پر دیا گیا ہے۔ ڈی کنڈیشنگ کا یہ عمل ہر ایک کو کرنا ہے۔ اس عمل کے بغیر کوئی بھی شخص صحیح الفکر (right thinker) نہیں بن سکتا۔ ڈی کنڈیشنگ کا یہ عمل بے حد سنجیدہ عمل ہے۔ اس میں ہر مرد اور عورت کو خود اپنے ذہن کی سرجری کرنی پڑتی ہے۔ ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان خیالات کو نکالنا پڑتا ہے جو ماحول کے اثر سے اس کے اندر داخل ہو گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نا پختہ عمر میں ہونے والی یہ کنڈیشنگ ہر آدمی کے ذہن کو افکار کا ایک جنگل بنا دیتی ہے۔ اس فکری جنگل کو صاف کرنے کا نام ڈی کنڈیشنگ ہے۔ یہ تطہیر صرف اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب کہ آدمی بے رحمانہ طور پر اپنے ذہن کا فکری آپریشن کرنے کے لیے تیار ہو۔ ۹۔ حدیثوں کے مطالعہ میں ایک مزاج یہ بن گیا ہے کہ ان سے بس جزئی مسائل اخذ کئے جاتے ہیں۔ کلی مسائل پر ان کو چسپاں نہیں کیا جاتا۔ حالانکہ اس قسم کا ذہن حدیث کی معنویت کو گھٹانے کے ہم معنی ہے۔ اس ذہن کا یہ نتیجہ ہوا کہ لوگوں نے جزئی مسائل میں تو حدیث سے رہنمائی حاصل کی مگر وہ زیادہ اہم مسائل میں حدیث سے رہنمائی حاصل نہ کر سکے۔ مثلاً ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: من حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ (آدمی کے اسلام کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ ایسے کام کو چھوڑ دے جس میں کوئی فائدہ نہیں)۔ اس حدیث سے عام طور پر صرف کچھ چھوٹے چھوٹے مسئلے نکالے جاتے ہیں۔ مثلاً کسی دینی مجلس میں بیٹھ کر ایک آدمی کسی تنکے سے کھیلے تو کہا جائے گا کہ یہ ایک بے فائدہ کام ہے، اس کو نہ کرو۔ مگر اس قسم کی تشریح اصل حدیث کی تفسیر کے ہم معنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث سے زندگی کے تمام معاملات کے لیے ایک نہایت اہم رہنمائی حاصل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page