Urdu book · مطالعۂ حدیث

اخلاق

Urdu book, p. 101

By Maulana Wahiduddin Khan

قاتل انسانیت حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا کم والحسد، فان الحسد یاکل الحسنات كما تأكل النار الحطب (ابوداؤد، کتاب الأدب، باب الحسد، ابن ماجه، کتاب الزہد) یعنی تم حسد سے بچو، کیوں کہ حسد اسی طرح نیکیوں کو کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا: لا يجتمعان في قلب عبد الايمان والحسد (نسائی، کتاب الجہاد) یعنی کسی بندے کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہو سکتے۔ حسد قاتل ایمان اور قاتل انسانیت ہے۔ حسد کا نقصان یہ ہے کہ وہ آدمی سے اعلیٰ ایمانی کیفیات کو چھین لیتا ہے۔ حسد اس میں رکاوٹ بن جاتا ہے کہ آدمی کے سینہ میں وہ دینی جذبات پرورش پائیں جو اس کو اللہ کے قریب کرنے والے ہیں اور جس کا انعام اس کو جنت کی صورت میں ملے گا۔ موجودہ دنیا میں ایسا ہوتا ہے کہ کبھی ایک شخص بظاہر بڑا ہو جاتا ہے اور دوسرا شخص بظاہر چھوٹا ۔ یہ امتحان کے لئے ہوتا ہے۔ وہ اس لئے ہے کہ اس فرق کو خدائی فیصلہ سمجھ کر اسے قبول کر لیا جائے مگر جب آدمی بڑے کی بڑائی کا اعتراف نہ کرے اور اس کو چھوٹا کرنے کی کوشش میں مصروف ہو جائے تو گویا کہ وہ خدا کے فیصلہ کو بدلنا چاہتا ہے۔ ایسا آدمی خدا کی قربت کی لذتوں سے محروم رہے گا۔ حقوق العباد کے سلسلہ میں سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی کے دل میں دوسرے انسانوں کے لئے شفقت اور ہمدردی کا جذبہ ہو مگر حسد آدمی کے اندر سے انسانی ہمدردی کا جذبہ ختم کر دیتا ہے۔ اس کا نقصان اس کو اس بدترین صورت میں ملتا ہے کہ وہ اس حدیث کا مصداق بن جاتا ہے: لا يرحم الله من لا يرحم الناس (البخاری، کتاب التوحيد) یعنی اللہ اس آدمی پر رحم نہیں کرے گا جو انسانوں پر رحم نہ کرے ۔ قرآن میں تقویٰ کی علامت یہ بتائی گئی ہے کہ کسی سے دشمنی ہو تب بھی آدمی اس کے بارے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page