Urdu book · مطالعۂ حدیث

ذکر و دعا

Urdu book, p. 104

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ کا ذکر حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ وہ کون لوگ ہیں جن کا درجہ اللہ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے افضل ہوگا۔ فرمایا کہ اللہ کا بہت زیادہ ذکر کرنے والے (ان رسول اللہ ﷺ سئل ای العباد افضل درجة عند الله يوم القيامة قال الذاكرين الله كثيراً) الترمذی، کتاب الدعوات ۔ ذکر کا مطلب کسی قسم کا لفظی ورد نہیں ہے۔ اس کا مطلب اللہ کی یاد ہے۔ اللہ کی یاد پورے دین کا خلاصہ ہے۔ بندہ جب اپنے رب کو اس کی عظمت و جلال کے ساتھ دریافت کرتا ہے تو یہ دریافت اس کی پوری شخصیت کے اندر ایک ہلچل پیدا کر دیتی ہے۔ اس کے دل میں خدا کی یاد کا طوفان برپا ہو جاتا ہے۔ اس کی یہ اندرونی کیفیت بار بار تکبیر و تحمید کے الفاظ کی صورت میں ظاہر ہوتی رہتی ہے۔ اسی بے تابانہ یاد کا نام ذکر ہے۔ اس ذکر کا کوئی وقت متعین نہیں، وہ ہر حال میں آدمی کی زبان پر جاری رہتا ہے، خواہ گھر کے اندر ہو یا مسجد میں ہو یا میدان جہاد میں۔ یہ ذکر بلاشبہ تمام اعمال میں سب سے افضل عمل ہے۔ الترمذی کی ایک اور روایت میں ہے کہ جب تم جنت کے باغوں سے گزر تو تو وہاں خوب چر لو۔ پوچھا گیا کہ جنت کے باغ کیا ہیں۔ فرمایا کہ ذکر کے حلقے ( اذا مررتم برياض الجنة فارتعوا۔ قالوا وما رياض الجنة ) الطبرانی نے یہ روایت کسی قدر لفظی فرق کے ساتھ نقل کی ہے۔ اس سے اس کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔ اس میں ہے کہ جب تم جنت کے باغوں سے گزرو تو خوب چر لو۔ پوچھا گیا کہ جنت کے باغ کیا ہیں۔ فرمایا کہ علم کی مجلسیں (اذا مررتم برياض الجنة فارتعوا ۔ قالوا وما رياض الجنة۔ قال مجالس العلم) مجلس ذکر اور مجلس علم دونوں ایک ہیں۔ انفرادی ذکر جب اجتماعی ذکر کی صورت میں ہو تو اسی کا نام مجلس ذکر یا مجلس علم ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page