ذکر و دعا
Urdu book, p. 113
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوں گی اور اللہ کی رضا مندی ہوگی اور اللہ کی نگاہ میں اس کے بندے۔ (آل عمران ۱۴۔۱۵) موجودہ دنیا میں ایک اندیشہ یہ ہے کہ آدمی سے اس کی کوئی محبوب چیز کھو جائے، اور پھر اس کی یاد میں وہ اپنے آپ کو اتنا زیادہ ہلکان کرلے کہ اس کے دل میں اللہ کے لئے کوئی جگہ باقی نہ رہے۔ اس لئے اسلام میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ ہر چیز کو اللہ کی ملک سمجھو اور اس کے کھوئے جانے پر یہ سوچ کر صبر کرو لوکہ جب تک اللہ نے چاہادہ چیز میرے پاس رہی اور جب اللہ نے چاہادہ چیز مجھ سے جدا ہوگئی۔ اس حقیقت کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈراور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری دے دو، جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں: ہم اللہ کے ہیں اور ہم اس کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ (البقرہ ۱۵۵۔۱۵۶) محبت کے جذبہ کو گہرائی کے ساتھ اللہ سے وابستہ رکھنے کے لئے ایک اور خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔ چنانچہ انسان کو پیشگی طور پر یہ بتا دیا گیا ہے کہ آخری انجام کے اعتبار سے یہ چیزیں سراسر بے حقیقت ہیں۔ آج کی زندگی میں جو چیز آدمی کو بہت خوشنما نظر آتی ہے اور وہ اس سے محبت کرنے لگتا ہے، موت کے بعد والی ابدی زندگی میں ان کے اندر اس کے لئے کشش نہ ہوگی۔ حقیقت کھلنے کے بعد آدمی ان چیزوں سے اس طرح بھاگے گا جیسے کہ وہ اس کے لئے بہت بڑی مصیبت ہوں۔ اس حقیقت کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: پس جب وہ کانوں کو بہرہ کر دینے والا شور برپا ہوگا۔ جس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی سے، اور اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے اور اپنی بیوی سے اور اپنے بیٹوں سے۔ ان میں سے ہر شخص کو اس دن ایسا فکر لگا ہوگا جو اس کو کسی اور طرف متوجہ نہ ہونے دے گا۔ کچھ چہرے اس دن روشن ہوں گے، ہنستے ہوئے، خوشی کرتے ہوئے اور کچھ چہروں پر اس دن خاک اڑ رہی ہوگی، ان پر سیاہی چھائی ہوئی ہوگی۔ یہی لوگ منکر ہیں، ڈھیٹ ہیں۔ (العبس ۳۴۔۴۲) دنیا کی جو چیزیں اپنی ظاہری خوش نمائی کی بنا پر انسان کو فریب میں مبتلا کرتی ہیں، ان کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader