آخرت
Urdu book, p. 120
By Maulana Wahiduddin Khan
استحقاق جنت ایک حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ پھر ہر اس بندے کو بخش دیا جاتا ہے جو اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرتا۔ سوائے اس شخص کے جس کے اور اس کے بھائی کے درمیان کینہ ہو۔ پس کہا جاتا ہے کہ ان دونوں کے معاملے کو مؤخر کرو یہاں تک کہ وہ دونوں اپنے باہمی معاملے کو درست کرلیں۔ (ار تحوا هذين حتى يصطلحا) کتاب البر والصلة والآداب، صحیح مسلم بشرح النووی ۱۶ / ۱۲۲۔ اس حدیث میں جس بات کی نشاندہی کی گئی ہے اس سے مراد وقت نہیں ہے بلکہ نفسیات ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ فلاں وقت تک آدمی کے بارے میں جنت کا فیصلہ نہیں کیا جاتا۔ اور اس کے بعد جب فلاں وقت آ جاتا ہے تو اس کے لیے جنت کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے بلکہ اس سے مراد خود اس کی داخلی نفسیات ہے۔ جو دراصل اس کے لیے جنت کا استحقاق پیدا کرتی ہے۔ ایک آدمی کا حال اگر یہ ہے کہ وہ اپنے بھائی کی طرف سے پیش آنے والے کسی ناپسندیدہ تجربے کے بعد اس سے متنفر ہوگیا۔ اور اس کے خلاف کینہ اور نفرت کے جذبات اس کے دل میں بھڑک اٹھے تو یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ ایسی نفسیات کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ اس کی روحانیت جاتی رہے گی۔ اس کا دماغ منفی خیالات کا کارخانہ بن جائے گا۔ وہ اپنی منفی سوچ کی بنا پر اس قابل نہ رہے گا کہ خدا کا فیض اس کے اوپر اترے اور اس کی زبان سے وہ پاکیزہ دعائیں نکلیں جو کسی آدمی کو جنت کا مستحق بناتی ہیں۔ اس کے عکس جب ایسا ہو کہ ایک آدمی کا وقتی طور کسی سے بگاڑ ہو جائے مگر جلد ہی وہ اس سے توبہ کرے۔ وہ نفرت کے جذبات کو اپنے اندر سے نکالے اور اس کے بجائے محبت کے جذبہ سے دوبارہ مذکور شخص سے اپنے تعلقات کو درست کرے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کو فرشتوں کی ہمنشینی حاصل ہو جائے گی۔ خدا کی یاد کا نورانی چشمہ اس کے سینے میں جاری ہو جائے گا۔ اس کی زبان سے دعا کے وہ ربانی کلمات نکلیں گے جو سیدھے خلا تک پہنچتے ہیں اور آدمی کو جنت کا مستحق بنا دیتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader