آخرت
Urdu book, p. 122
By Maulana Wahiduddin Khan
اگر آدمی سنجیدہ ہو حدیث میں آیا ہے کہ اپنے چہرہ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ کیوں نہ ہو۔ اور جس شخص کے پاس وہ بھی نہ ہو تو وہ ایک اچھے بول کے ذریعہ اپنے کو جہنم سے بچائے۔ کیوں کہ اچھے بول کا بدلہ بھی دس گناہ سے سات سو گنا تک ملتا ہے (من استطاع ان یقی وجهه من النار ولو بشق من تمرة فليفعل ومن لم يجدها فبكلمة طيبة فان بها تجزى الحسنة عشر امثالها الی سبعمائة ضعف) دوسری طرف حدیث میں یہ بھی ہے کہ جو شخص چپ رہا اس نے نجات پائی (من سکت نجح) اس سے معلوم ہوا کہ کبھی نیکی یہ ہوتی ہے کہ آدمی بولے اور کبھی سب سے بڑی نیکی یہ ہوتی ہے کہ آدمی چپ رہے۔ کبھی چلنا مطلوب ہوتا ہے اور کبھی بیٹھ رہنا۔ کبھی خدا کو پسند ہوتا ہے کہ اس کا بندہ آنکھ کھول کر دیکھے اور کبھی خدا کی سب سے بڑی پسند یہ ہوتی ہے کہ بندہ اپنی آنکھوں کو بند کرلے۔ کب ایک عمل مطلوب ہے اور کب دوسرا عمل، اس کی کوئی متعین فہرست نہیں بنائی جاسکتی۔ لیکن اگر آدمی خدا سے ڈرتا ہو، اگر اس کو آخرت کی پکڑ کا اندیشہ لگا ہوا ہو تو وہ خود جان لے گا کہ کس موقع پر اسے کیا کرنا چاہئے۔ اگر آدمی کا ذاتی معاملہ ہو اگر اس کے اوپر زہ پڑے تو اس کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگتی کہ کس موقع پر اسے کیا کرنا چاہئے۔ مگر جب معاملہ دوسرے کی ذات کا ہو تو وہ اس کو سمجھ نہیں پاتا۔ اگر آدمی صرف اتنا کرے کہ جو چیز وہ اپنے لئے چاہتا ہے وہی دوسرے کو بھی دے اور جس چیز سے خود بچنا چاہتا ہے اس سے دوسروں کو بھی بچائے تو یہی اس کی اصلاح کے لئے کافی ہے۔ اپنی ذات کے بارے میں آدمی کا عمل بتا رہا ہے کہ اس کو اچھی طرح معلوم ہے کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا۔ مگر اس علم کو آدمی صرف اپنے لئے استعمال کرتا ہے اور جب معاملہ دوسرے کا ہو تو وہ اس سے بے خبر ہو جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader