Urdu book · مطالعۂ حدیث

آخرت

Urdu book, p. 124

By Maulana Wahiduddin Khan

امت کا بگاڑ حضرت علیؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ سے ایک روایت مختلف الفاظ میں نقل ہوئی ہے۔ اس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آخر زمانہ میں جب امت مسلمہ کے اندر بگاڑ آئے گا تو اس کے افراد میں دس قسم کی خصلتیں پیدا ہو جائیں گی ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی کی بات مانے گا اور اپنی ماں کی نافرمانی کرے گا۔ وہ اپنے دوست سے قریب ہوگا اور باپ سے دور ہو جائے گا (اطاع الرجل امراته وعق امه وادني صديقه واقصي اباه، الترندی) بیوی کسی آدمی کے لیے دل چسپیوں کا مرکز ہوتی ہے جب کہ ماں کا وجود ذمہ داریوں کی علامت ہے۔ اسی طرح باپ کے ساتھ فرماں برداری کا تصور وابستہ ہوتا ہے اور دوست کے ساتھ تفریح کا۔ آدمی کا ماں باپ کو چھوڑ دینا اور اپنی بیوی اور اپنے دوستوں سے قریب ہونا دراصل بڑھی ہوئی دنیا پرستی کا نتیجہ ہے۔ اپنے بیوی بچوں سے دل چسپی یا اپنے دوستوں سے رغبت بجائے خود فطری چیزیں ہیں۔ مگر جب آدمی کا مزاج آخرت پسندانہ ہو تو ان چیزوں کو وہ ضرورت کے دائرہ میں محدود رکھتا ہے، وہ اپنے جی کے میلان پر پابندی قائم رکھتے ہوئے والدین کے بارہ میں اپنی شرعی ذمہ داریوں کو ادا کرتا رہتا ہے۔ مگر جب آخرت کے عقیدہ پر دنیا پرستی کا رجحان غالب آ جاتا ہے تو صورت حال بدل جاتی ہے۔ اب آدمی ہمہ تن اپنے دوستوں اور اپنے بیوی بچوں کی طرف جھک جاتا ہے اور ماں باپ سے علّابے تعلق ہو جاتا ہے، اور اگر تعلق رکھنا بھی ہے تو محض زبان اور الفاظ کا۔ اس کا بہترین مشغلہ یہ ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے دوستوں کے درمیان خوش وقتی کے لمحات گزارے۔ اس کے لطف ولذت کے اوقات وہ ہوتے ہیں جب کہ وہ اپنے بیوی بچوں کے درمیان ہو اور ان سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر رہا ہو۔ اس کا وقت ، اس کا پیسہ ، اس کے جذبات ، اس کا پورا وجود اپنے بیوی بچوں کے لیے وقف ہو جاتے ہیں۔ ماں باپ کے لیے اس کے پاس رسمی باتوں کے سوا کچھ اور نہیں رہتا۔ قوم پر ایسا وقت آنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے افراد پابندی کے بجائے بے فکری کو پسند کرنے لگے ہیں۔ ان کو ذمہ دارانہ زندگی کے مقابلہ میں بے قید زندگی زیادہ محبوب ہو گئی ہے۔ افراد کا یہی مزاج قوم کے زوال کا سب سے بڑا سبب ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page