آخرت
Urdu book, p. 128
By Maulana Wahiduddin Khan
جنت کا انعام صحیح البخاری، کتاب مناقب الانصار، باب تزویج النبی صلی اللہ علیہ وسلم خدیجۃ و فضلھا کے تحت حضرت ابو ہریرہ کی ایک روایت ان الفاظ میں نقل کی گئی ہے : اتي جبريل النبی صلی اللہ علیہ وسلم جبريل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ انھوں فقال : يا رسول اللہ ، هذه خديجة نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، یہ خدیجہ آرہی ہیں۔ قد انت معها اناء فيه ا دام او طعام ان کے ساتھ ایک برتن ہے ۔ اس میں کھانے او شراب ۔ فاذا هي اتتك فاقرأ اور پینے کا سامان ہے ۔ جب وہ آپ کے پاس عليها السلام من ربها ومنی آجا ئیں تو ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام وبشرها ببيت في الجنة من کہہ دیں اور میری طرف سے بھی۔ اور ان کو خوش قصب لا نصب فيه ولا نصب - خبری دے دیں کہ جنت میں ان کے لیے ایک گھر ہوگا جس میں نہ کوئی شور ہوگا اور نہ کوئی تکلیف ۔ یہ واقعہ کہاں پیش آیا۔ اس سلسلہ میں ابن حجر العسقلانی نے الطبرانی کی ایک روایت کے حوالہ سے لکھا ہے کہ یہ اس وقت ہوا جب کہ آپ مکہ کے قریب غار حراء میں تھے (فی رواية سعید بن كثير عند الطبراني ، ان ذلك كان وهو بحراء) فتح الباری ۱۷۲/۷ یہ غالباً کی دور کے اس زمانہ کی بات ہے جب کہ اہل مکہ آپ کو اور آپ کے اصحاب کو بیت اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتے تھے چنانچہ آپ کو اور آپ کے اصحاب کو اکثر نماز اور عبادت کے لیے مکہ کے باہر پہاڑوں کی طرف جانا پڑتا تھا۔ غالباً اسی زمانہ میں آپ عبادت کے لیے حراء نامی غار میں بھی گئے جو مکہ سے تقریباً ڈھائی میل کے فاصلہ پر ہے۔ اس وقت حضرت خدیجہ نے آپ کے لیے کھانا تیار کر کے اس کو غار حرا میں پہنچایا۔ مذکورہ واقعہ بعثت نبوی کے ابتدائی زمانہ سے تعلق رکھتا ہے۔ اس وقت مکہ میں آپ ایک بے یارو مددگار شخص کی حیثیت رکھتے تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader