آغاز کلام
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
عرب عالم کا یہ فتویٰ بلاشبہ درست ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی (اور دوسرے علماء) اس شرعی اصول کو فلسطین اور دوسرے مقامات پر ہونے والے متشددانہ جہاد پر منطبق نہ کر سکے۔ اس دوسرے معاملہ میں ان علماء نے تقریباً متفقہ طور پر یہ فتویٰ دیا کہ موجودہ مسلح جہاد عین اسلامی جہاد ہے۔ اور اس میں مرنے والے لوگ شہید کا درجہ پا رہے ہیں۔ حتیٰ کہ خودکش بمباری (suicide bombing) کو بھی انہوں نے اسلامی جہاد بتایا، حالانکہ صحیح بخاری کی مذکورہ روایت کی روشنی میں تیسر الفتویٰ کا جو اصول انہوں نے وضع کیا ہے اس کی روشنی میں اگر وہ ان جہادی سرگرمیوں کو دیکھتے تو ان کا فتویٰ بالکل مختلف ہوتا۔ اب وہ کہتے کہ ان مجاہدین کے لیے دو میں سے ایک کے انتخاب (choice) کا معاملہ ہے۔ یعنی پر امن طریقہ کار (peaceful method) اور متشددانہ طریقہ کار (violent method)۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ عمومی پالیسی کے مطابق موجودہ مسلمانوں کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ آسان طریقہ کار کو اختیار کریں۔ یعنی متشددانہ طریقہ کار کو چھوڑ دینا اور پرامن طریقہ کار پر کار بند ہو جانا۔ مگر رواجی فقہی فریم ورک کی بنا پر وہ ایسا نہ کر سکے۔ حدیث اور سنت میں موجودہ زمانہ کے لیے نہایت کامیاب رہنمائی موجود تھی۔ مگر ہمارے علماء کا ذہن رواجی فقہی فریم ورک میں اٹکا رہا۔ اس کا یہ نا قابل تلافی نقصان ہوا کہ وہ حدیث کی آفاقی معنویت کو دریافت نہ کر سکے، وہ امت کو جدید حالات کے لحاظ سے صحیح شرعی رہنمائی دینے میں ناکام رہے۔ مذکورہ محدود ذہنی نقشہ کی بنا پر ایسا ہوا کہ ان علماء نے نماز کے طریقہ کو متعین کرنے کے بارے میں تیسر الفتویٰ کے اصول کو اختیار کیا، مگر جہاد کے طریقہ کو متعین کرنے کے بارہ میں، برعکس طور پر، تیسر الفتویٰ کا اصول۔ اس فرق کے نتیجہ میں امت مسلمہ کو موجودہ زمانہ میں جو نقصانات پہنچے وہ اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں۔ نئی دہلی، ۱۴ جولائی ۲۰۰۳ وحید الدین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader