روحِ اسلام
Urdu book, p. 147
By Maulana Wahiduddin Khan
جائے گا جو اپنی خصوصی اہلیت کی بنا پر مسلمانوں کی پوری جماعت میں امیر یا خلیفہ بننے کا سب سے زیادہ اہل ہے۔ مگر یہ غلط فہمی سراسر بے بنیاد تھی۔ اصل حقیقت برعکس طور پر یہ ہے کہ حضرت عمر فاروق ان انتہائی نادر انسانوں میں سے تھے جن کو تاریخ ساز انسان کہا جاتا ہے۔ مگر اس غیر معمولی صفت کے باوجود بظاہر یہ ممکن نظر نہیں آتا تھا کہ خلیفہ دوم کے منصب کے لئے لوگ ان کے نام پر متفق ہو جائیں گے۔ یہی اندیشہ تھا جس کی بنا پر خلیفہ اول کو اس معاملہ میں پیشگی نظیر کے باوجود اجتہاد کرنا پڑا۔ چنانچہ انھوں نے ذاتی مداخلت کرتے ہوئے عمر فاروق کو اپنے بعد خلافت کے لئے نامزد کر دیا۔ حضرت عمر فاروق کے بارہ میں لوگوں کی یہ رائے تمام تر غلط فہمی پر مبنی تھی۔ حضرت عمر فاروق بے حد اصول پسند انسان تھے۔ وہ حق کے معاملہ میں مصالحت کو گوارا نہیں کرتے تھے۔ اس چیز نے ان کے مزاج میں شدت پیدا کر دی تھی۔ وہ جب بھی کس کو کوئی غلط بات کہتے ہوئے یا غلط کام کرتے ہوئے دیکھتے تو وہ اس پر سخت تنبیہہ و تنقید کرتے۔ وہ جس چیز کو حق سمجھتے اس کے اعلان میں وہ کبھی کسی کی رعایت نہیں کرتے تھے۔ اس بنا پر لوگ ان سے دور رہنے لگے۔ حتیٰ کہ رسول اللہ نے فرمایا خدا عمر پر رحم کرے، ان کا کوئی دوست نہیں۔ مگر حضرت عمر کے بارے میں لوگوں کا یہ احساس تمام تر غلط فہمی پر مبنی تھا۔ حضرت عمر فاروق کی شدت صرف ناحق کے خلاف ہوتی تھی نہ کہ کسی انسان کے خلاف۔ وہ عین اس وقت بھی انسان کے خلاف نفرت سے خالی ہوتے جب کہ وہ اس کی تنبیہہ کر رہے ہوتے تھے۔ ان کے دل میں عین اس وقت بھی انسان کے لئے خیر خواہی کا جذبہ ہوتا تھا جب کہ بظاہر وہ اس کے خلاف غصہ کرتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ ان کی ہر سختی میں ایک نرمی چھپی ہوتی تھی۔ ان کی ہر تنقید کے پیچھے محبت کا جذبہ کارفرما ہوتا تھا۔ عام لوگ اس نازک فرق کو نہ سمجھ سکے۔ اس لئے انہیں حضرت عمر فاروق کے بارے میں سخت غلط فہمی پیدا ہو گئی۔ تاہم جو لوگ زیادہ با شعور تھے وہ اس راز کو سمجھتے تھے۔ چنانچہ جب لوگوں نے حضرت عثمان سے حضرت عمر فاروق کی شکایت کی تو حضرت عثمان نے ان کے بارے میں کہا کہ ان کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader