Urdu book · مطالعۂ حدیث

روحِ اسلام

Urdu book, p. 154

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ یہاں تک کہ یہ کہنا درست ہوگا کہ تنقید مکمل طور پر جائز ہے اور تنقیص مکمل طور پر ناجائز۔ تنقید بلاشبہ ایک مطلوب چیز ہے اور تنقیص بلاشبہ ایک غیر مطلوب چیز۔ تنقید دراصل علمی اختلاف کا دوسرا نام ہے۔ حقائق و واقعات کی روشنی میں خالص موضوعی انداز میں کسی معاملہ کا تجزیہ کرنا وہ چیز ہے جس کو تنقید کہا جاتا ہے۔ تنقید خواہ بظاہر کسی شخص کے افکار و آراء کے حوالہ سے ہو، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ معاملہ کی اصولی وضاحت ہوتی ہے۔ اُس میں غلط اور صحیح کے درمیان تقابل ہوتا ہے، نہ کہ ایک شخص اور دوسرے شخص کے درمیان۔ اس کے برعکس تنقیص ایک شخصی عیب جوئی ہے۔ تنقیص کرنے والے کے سامنے اصلاً کسی امرِ حق کی وضاحت نہیں ہوتی بلکہ ایک شخص کی تذلیل اور تحقیر ہوتی ہے جس کو اُس نے کسی وجہ سے اپنا مخالف سمجھ لیا ہے۔ تنقیص صرف ایک غیر اخلاقی فعل ہے، وہ کسی درجہ میں بھی کوئی علمی واقعہ نہیں۔ تنقید کا عمل اگر علمی اصول کی بنیاد پر ہوتا ہے تو تنقیص کا عمل کسی شخص کے خلاف ذاتی سب و شتم کی بنیاد پر۔ خاص طور پر ان لوگوں کے لئے جو بیمار رہتے ہیں یا جن کے گھر میں کوئی نہ کوئی بیمار رہتا ہے ۔ ن دلا کے طلب گاروں کی بیاض پر۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page