Urdu book · مطالعۂ حدیث

ربانیات

Urdu book, p. 162

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کی شناخت اسلام کی شناخت ملی نہیں ہے بلکہ ربانی ہے۔ مسلم کی پہچان یہ نہیں ہے کہ اس کا کلچر الگ ہو۔ مسلم کی حقیقی پہچان یہ ہے کہ اس کی شخصیت عام انسانوں سے مختلف ہو۔ دور اول کے عرب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہچان یہ نہیں تھی کہ آپ کی زبان، آپ کا لباس، آپ کا رہن سہن دوسروں سے مختلف تھا۔ آپ کی پہچان یہ تھی کہ آپ الامین ہیں۔ بہت سے خداؤں کے دیس میں آپ ایک خدا کی عبادت کرنے والے ہیں۔ حدیث میں ہے کہ : خیارکم الذین إذا رءوا ذکر اللہ (ابن ماجہ، کتاب الزہد) یعنی تم میں بہتر وہ لوگ ہیں کہ جب انہیں دیکھا جائے تو خدا یاد آئے۔ اسلامی شناخت کا صحیح تصور یہی ہے۔ سچا مومن وہ ہے جس کو دیکھنا اور جس سے ملنا آدمی کے لیے ایک ربانی تجربہ بن جائے۔ جس کا کلام خدا کی عظمت کا اعلان بنا ہوا ہو۔ جس کے سلوک میں جنتی انسان کی خوشبو بسی ہوئی ہو۔ جس کا بولنا اس کے سننے والوں کو چپ کر دیتا ہو۔ اور جس کی خاموشی میں لوگوں کو تقریر کی کیفیت محسوس ہونے لگے۔ مومن وہ انسان ہے جس کو خدا کی معرفت حاصل ہوگئی ہو۔ جس کا سینہ خدا کی یاد سے پھٹ پڑا ہو۔ جو دیکھنے سے پہلے خدا کو دیکھنے لگا ہو۔ ایسا انسان اپنے پورے وجود کے ساتھ خدا کی ایک نشانی بن جاتا ہے۔ اس کی پوری شخصیت ایک آسمانی نور میں نہائی ہوئی ہوتی ہے۔ ایسا آدمی اپنے لباس سے نہیں پہچانا جاتا۔ وہ اپنی اس اندرونی شخصیت سے پہچانا جاتا ہے جو اتنی نمایاں ہوتی ہے کہ وہ اس کے لباس کو بھی ڈھک لیتی ہے۔ یہی ربانی شخصیت مومن کی اصل پہچان ہے۔ اس کو دیکھنا کسی گروہ ہی امتیاز کو دیکھنا نہیں ہوتا۔ اس کو دیکھنا ایک ایسی ہستی کو دیکھنا بن جاتا ہے جو خدا کی یاد دلا دے، جو دیکھنے والے کے اوپر خدا کی حقیقتِ اعلیٰ کو منکشف کر دے۔ اسلامی شناخت یہ ہے کہ آدمی کا طرزِ فکر دوسروں سے مختلف ہو جائے۔ اس کے قول میں ایک نیا آہنگ پیدا ہو جائے ۔ اس کا اخلاق دوسروں سے الگ دکھائی دینے لگے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page