ربانیات
Urdu book, p. 168
By Maulana Wahiduddin Khan
زندگی میں وہ صورت حال کیوں پیش آتی ہے جب کہ ایک آدمی کو دوسرے آدمی کو دوسرے آدمی کے خلاف غصّہ آئے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں خدا نے ہر ایک کو آزادی دی ہے کیوں کہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے، اور آزادی کے بغیر امتحان ممکن نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب غصّہ کی صورت حال پیدا ہو تو آدمی کو یہ سوچنا چاہئے کہ وہ اگر اپنے غصّہ کو انتقام بنائے گا اور فریقِ ثانی سے لڑنے کی کوشش کرے گا تو اس کا یہ لڑنا کسی انسان سے لڑنا نہیں ہوگا بلکہ خدا کے مقرر کئے ہوئے فطری نقشہ سے لڑنا ہوگا۔ ایسی حالت میں غصّہ کرنے والے کی نا کامی یقینی ہے۔ کیوں کہ یہ ایک واقعہ ہے کہ کوئی بھی شخص اتنا طاقتور نہیں کہ وہ خدا کے بنائے ہوئے فطری نقشہ سے لڑ کر جیت سکے۔ جب ایک آدمی غصّہ کو برداشت کر لے تو وہ اپنے آپ کو بہت بڑے خدائی انعام کا مستحق بناتا ہے کیوں کہ ایسے موقع پر غصّہ کو برداشت کر لینا خدا کے فطری نظام کے اعتراف کے ہم معنی ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader