Urdu book · مطالعۂ حدیث

ربانیات

Urdu book, p. 170

By Maulana Wahiduddin Khan

خطرہ کہاں ہے ایک عربی پرچہ میں ایک مضمون نظر سے گزرا۔ اس کا عنوان تھا: الاقليات المسلمة تواجه خطر الذوبان۔ یعنی مسلم اقلیتوں کو اس خطرہ کا سامنا ہے کہ وہ اکثریتی فرقہ میں گھل مل جائیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ الاسلام يعلو ولا يعلى (اسلام ہمیشہ غالب رہتا ہے وہ کبھی مغلوب نہیں ہوتا) فتح الباری ۲۶۱/۳۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اسلام کو اللہ تعالیٰ نے غلبہ کی حیثیت عطا فرمائی ہے تو اس کے لیے مغلوب ہونے یا جذب ہو جانے کا خطرہ کیوں محسوس کیا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ بالکل سادہ ہے اور وہ اسلام اور مسلمانوں میں فرق نہ کرنا ہے۔ کوئی مسلم گروہ اپنے زوال کی بنا پر مذکورہ قسم کے خطرہ میں مبتلا ہو سکتا ہے لیکن اسلام، ایک ربانی نظریہ کی حیثیت سے اس سے ارفع و اعلیٰ ہے کہ اس کو کسی بھی حال میں غیر اسلامی طاقتوں سے مغلوب ہونے یا ان میں جذب ہو جانے کا خطرہ لاحق ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں کے لیے یہ خطرہ پیدا ہو کہ وہ کسی غیر مسلم طاقت سے مغلوب ہو جائیں گے یا اس میں جذب ہو جائیں گے تو پیشگی طور پر یہ سمجھنا چاہیے کہ اس کی وجہ خود مسلمانوں کا اسلام میں کمزور ہونا ہے نہ کہ غیر مسلموں کا ان کے مقابلہ میں طاقتور ہو جانا۔ اس لیے جب بھی اس قسم کا خطرہ پیدا ہو تو مصلحین کو چاہیے کہ وہ خود مسلم نسلوں کو دوبارہ اسلام پر اٹھانے کی کوشش کریں۔ وہ ان کے کیس کو قومی کیس کے بجائے اسلام کا کیس بنا دیں۔ اس کے بجائے غیر مسلم طاقتوں کے خلاف قولی یا عملی ہنگامہ آرائی کرنا ایک غیر متعلق فعل ہے جس کا خدا کی اس دنیا میں کوئی فائدہ نکلنے والا نہیں۔ مسلمانوں کا ہر مسئلہ داخلی کمزوری کا مسئلہ ہے۔ مسلمانوں کے ہر مسئلہ کو صرف داخلی استحکام کے ذریعہ حل کیا جا سکتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page