Urdu book · مطالعۂ حدیث

ربانیات

Urdu book, p. 172

By Maulana Wahiduddin Khan

خاموشی ضروری ہے ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تو اس کو چاہیے کہ بھلی بات بولے ورنہ چپ رہے (من كان يومن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا او ليصمت) حقیقت یہ ہے کہ چپ رہنا بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ بولنا۔ بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں جہاں بولنا انتہائی ضروری ہوتا ہے اس لیے اس شخص کو گونگا شیطان (شيطان اخرس) کہا گیا ہے جو بولنے کے موقع پر نہ بولے مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں جب کہ چپ رہنا ہی زیادہ صحیح اور ضروری ہے۔ خاموشی کے ضروری ہونے کی ایک مثال غزوہ احد کا واقعہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہو گئے تھے اور ایک غار میں لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ تھے۔ یہاں تک کہ دشمنوں نے اعلان کر دیا کہ محمد قتل کر دیئے گئے۔ صحابہ پر سرائیکی چھا گئی۔ اس دوران ایک صحابی کی نظر آپ پر پڑی۔ وہ بول پڑے کہ رسول اللہ یہاں ہیں۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بولے بغیر اشارہ سے ان کو منع کیا کہ چپ رہو (اشار اليه الرسول ان اصمت) اس کی ایک مثال وہ حدیث ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر تم اپنے ساتھی سے کہو کہ چپ رہو، جب کہ امام خطبہ دے رہا ہو تو تم نے لغو فعل کیا (اذا قلت لصاحبك اسكت والامام يخطب فقد لغوت) انفرادی مجالس میں بھی خاموشی کا یہ اصول ضروری ہے۔ مگر جب معاملہ قوم کا ہو تو اس کی اہمیت لاکھوں گنا بڑھ جاتی ہے۔ کسی نازک موقع پر ایک رہنما کی خاموشی ایک بڑے فساد کو روکنے کا سبب بن جاتی ہے۔ اسی طرح ایک رہنما کی بے موقع تقریر ایک ایسا فساد برپا کر سکتی ہے جس میں سیکڑوں انسان مارے جائیں اور کروڑوں روپے کی جائیداد جلا کر خاک کر دی جائے ۔ اسی مفہوم میں سسٹر کنسولتا (Sister Consolata) نے کہا ہے کہ کسی قوم کی ناکامیوں کی سب سے زیادہ تعداد کا سبب خاموشی کے اصول کو توڑنا ہے :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page