Urdu book · مطالعۂ حدیث

ربانیات

Urdu book, p. 179

By Maulana Wahiduddin Khan

پانچویں نہ بنو، ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے ایک حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کن عالما او متعلماما او مستمعا او محبا ولا تکن الخامس فتهلك تم علم کو جاننے والے بنو یا علم کو سیکھنے والے یا علم کو سننے والے یا علم سے محبت کرنے والے، اور پانچویں نہ بنو ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے۔ اس حدیث میں علم سے مراد وہ علم ہے جو آدمی کو اللہ اور اللہ کی باتوں سے باخبر کرے ۔ لوگوں میں کوئی پڑھا لکھا ہوتا ہے، کوئی جاہل کوئی ذہین ہوتا ہے کوئی غبی ۔ اس لئے آدمیوں کی مختلف حالت کے اعتبار سے آپ نے چار درجے مقرر کر دیئے ۔ اور فرمایا کہ ہر حال میں تم کو ان چار درجوں میں سے کسی ایک درجہ پر ہونا چاہئے ۔ یا تو تم وہ شخص بنو جس نے خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کر کے دین خداوندی کو بخوبی سمجھ لیا ہو اور اس کے لئے وہ ضروری محنت و ریاضت کرتی ہو جو آدمی کو صحیح معرفت تک پہنچاتی ہے۔ اگر یہ مقام تم کو حاصل نہ ہو تو دوسرا درجہ یہ ہے کہ تم اپنی اس کمی سے آگاہ ہو اور اس کو پورا کرنے کے لئے علم حقیقی کو سیکھنا شروع کر دو، قرآن وسنت کے طالب علم بن جاؤ ۔ اگر تم اپنے حالات کے لحاظ سے یہ بھی نہ کر سکو تو تیسرا درجہ یہ ہے کہ تمھارے اندر اس واقعہ کا اعتراف پیدا ہو جائے کہ تم نہ صاحب علم ہو نہ طالب علم ۔ ایسی حالت میں تمھارے لئے صحیح رویہ یہ ہے کہ تم سننے والے بن جاؤ۔ جہاں کہیں خدا کی باتیں ہوں، تم وہاں خاموشی سے بیٹھو اور جو کچھ بتایا جا رہا ہو اس کو غور سے سنو۔ پھر اگر کوئی اس درجہ پر بھی نہ ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ اپنی اس محرومی کا احساس کرے ۔ اور اس احساس محرومی کا کم سے کم تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے دل میں ان لوگوں کے لئے محبت پیدا کرے جو اس شارع علم میں اپنا حصہ پاۓ ہوۓ ہیں جس سے وہ اپنا حصہ نہ پاسکا۔ یہ چوتھا درجہ ہے جہاں کوئی مومن اس دنیا میں ہو سکتا ہے ۔ اس کے بعد جو پانچواں درجہ ہے وہ ہدایت کا نہیں بلکہ گمراہی کا درجہ ہے۔ وہ یہ کہ آدمی علم حقیقت سے باخبر نہ ہو، اس کے باوجود بحث و نزاع کرے، وہ علم دین کے بجاۓ کسی اور علم کا متعلم بن جاۓ ۔ وہ سننے اور سیکھنے کے لئے ان مجالس کا انتخاب کرے جہاں دین کی باتیں نہیں ہوتیں۔ حتیٰ کہ اس کے دل میں محبت واحترام بھی ان لوگوں کے لئے ہو جاۓ جو علم دین کے مالک تو نہیں ہیں البتہ دوسری قسم کی مہارتوں میں کمال رکھتے ہیں یہ انسان کی پانچویں حالت ہے اور جو اپنے آپ کو اس حال پر پاۓ اس کو سمجھنا چاہئے کہ وہ ہلاک ہو گیا۔ الا یہ کہ وہ واپس لوٹے اور مذکورہ چار میں سے کوئی ایک بننے کی کوشش کرے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page