ربانیات
Urdu book, p. 190
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانہ میں اس کوتاہی کا بے پناہ نقصان مسلمانوں کے حصہ میں آیا ہے۔ مثلاً موجودہ زمانہ میں تقریباً ہر مسلم علاقہ میں ’’سیاسی انقلاب‘‘ کے نام سے تحریکیں چلائی جارہی ہیں۔ ان تحریکوں کا براہ راست ٹکراؤ حکومت وقت سے ہوتا ہے۔ حکومت وقت ان تحریکوں کو اپنے لئے سیاسی خطرہ سمجھ کر ان پر پابندی لگاتی ہے۔ اس کے بعد تحریکوں کے علَمبردار تشدد پر اتر آتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حکومت اپنی طاقت کو استعمال کرکے ان تحریکوں کو کچلنا شروع کردیتی ہے۔ یہ واقعہ آج دنیا کے تقریباً ہر حصہ میں مختلف صورتوں میں پیش آرہا ہے۔ مگر موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے صرف ایک ہی کام کررہے ہیں، اور وہ شکایت اور احتجاج ہے۔ وہ تحریک چلانے والے لوگوں کو کچھ نہیں کہتے۔ البتہ حکمرانوں کو اسلام دشمن قرار دے کر ہر رات دن وہ ان کی مذمت میں مشغول ہیں۔ یہ طریقہ واضح طور پر اسلامی شریعت کے خلاف ہے۔ جب شریعت یہ کہتی ہے کہ جس حکم پر عمل کرنا مشقت کا باعث ہو رہا ہو وہ عمل مسلمانوں سے رفع کردیا جاتا ہے۔ ایسی حالت میں مذکورہ نوعیت کی تباہ کن سیاست کا مطلب اپنے آپ کو ایک ایسے حکم کا مکلف بنانا ہے جس کا مکلف شریعت نے ان کو نہیں کیا۔ جب یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ مشقت کے موقع پر شریعت حکم کو آسان کردیتی ہے تو یہی اصول اس سیاسی معاملہ میں بھی اپنایا جائے گا جس طرح وہ عبادت اور اکل وشرب کے معاملہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس حکم کا تعلق جس طرح عبادت ہے اسی طرح جہاد سے بھی ہے۔ آج اگر چہ ہر ملک میں یہ صورت حال ہے کہ حکمرانوں سے سیاسی ٹکراؤ کرنے میں مشقت پیش آرہی ہے، مگر عین اسی وقت ہر ملک میں غیر سیاسی میدان میں کام کرنے کے مواقع پوری طرح کھلے ہوئے ہیں۔ مثلاً تعلیم و تربیت، معاشی تعمیر، اصلاح معاشرہ، دعوت و تبلیغ، وغیرہ۔ اس طرح کے بہت سے نہایت قیمتی کام ہیں جو غیر سیاسی میدان میں کئے جاسکتے ہیں۔ اور ان کو کرنے میں کسی مشقت کا کوئی اندیشہ نہیں۔ ایسی حالت میں جو لوگ مسلمانوں کو تباہ کن ٹکراؤ کے راستہ پر لے جارہے ہیں اور ان کو تعمیر کے میدان میں کھلے مواقع کے استعمال کی طرف راغب نہیں کرتے وہ یقیناً شریعت سے انحراف کررہے ہیں نہ کہ شریعت کی تعمیل۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader