ربانیات
Urdu book, p. 193
By Maulana Wahiduddin Khan
تالیفِ قلب کی یہ مدد باقی نہ رہی۔ گویا کہ اب مالِ زکوۃ کی صرف سات مدیں ہیں نہ کہ قرآن کے بیان کے مطابق، آٹھ مدیں ۔ ان لوگوں کے نزدیک تالیفِ قلب کی حکمت ضعف ہے۔ یعنی اسلام جب ضعیف تھا تو اپنے ضعف کی مالی تلافی کے لیے زکوۃ میں یہ مد مقرر کی گئی۔ مگر اسلام جب طاقتور ہو گیا تو اس قسم کی مالی دلجوئی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اس بنا پر بعد کو یہ مد ساقط یا موقوف ہو گئی۔ فقہاء میں امام مالک اور امام ابو حنیفہ کا یہ مسلک کلیتاً ہے اور دوسرے علماء کا کسی قدر گنجائش کے ساتھ۔ مثلاً یہ کہ اب نو مسلم کو دیا جا سکتا ہے مگر کسی غیر مسلم کو نہیں دیا جائے گا۔ ان کے نزدیک نو مسلم لوگ فقراءِ مسلمین کے حکم میں داخل ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تالیفِ قلب کا حکم نہ تو ساقط ہوا ہے اور نہ یہ حکم ضعفِ اسلام کی بنا پر تھا۔ یہ حکم مصلحتِ دعوت کی بنا پر ہے نہ کہ ضعفِ اسلام کی بنا پر۔ اسلامی دعوت میں اصل انحصار دلیل پر ہوتا ہے۔ داعی کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ دلیل کی قوت سے مدعو کو مطمئن کرے اور اُس کے اندر ذہنی تبدیلی لائے۔ مگر اس دعوتی عمل میں کچھ چیزوں کی ضرورت بطور معاون ہوتی ہے۔ مثلاً نرم گفتاری، اعلیٰ اخلاق، مدعو کے ساتھ تقریب کا معاملہ کرنا۔ چنانچہ تقریب دعوت کی اسی مصلحت کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد تقریباً سولہ ماہ تک یہود کے قبلہ کو اپنا قبلہ بنائے رکھا۔ (تفسیر القرطبی، ۲/ ۱۵۰) تالیفِ قلب کی انہی صورتوں میں سے ایک صورت یہ ہے کہ مال یا تحفہ کے ذریعہ ان کی دلجوئی کی جائے۔ اس مقصد کے لئے دوسرے اموال کے علاوہ زکوۃ کی رقم بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔ مالِ زکوۃ کے خرچ کی یہ مد ابدی ہے، وہ اس وقت تک باقی رہے گی جب تک دعوت کا عمل لوگوں کے درمیان جاری ہو، خواہ مسلمان، سیاسی اعتبار سے، طاقت کی حالت میں ہوں یا ضعف کی حالت میں۔ تالیفِ قلب (دلجوئی) کا تعلق صرف زکوۃ کے مال سے نہیں ہے۔ اس کو زکوۃ کی ۸ مدوں میں سے ایک مد قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ مدعو گروہ کی آخری حد تک رعایت کرو۔ حتی کہ ان کی دلجوئی کے لئے اگر زکوۃ کے اموال سے دینا ہو تو اُس میں سے بھی انہیں دو۔ تالیفِ قلب آدابِ دعوت کا ایک عام اصول ہے۔ اس کا تعلق ہر اس پہلو سے ہے جو مدعو کے دل میں اسلام کے لئے نرم گوشہ (soft corner) پیدا کرنے والا ہو۔ قرآن و سنت میں اس کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں۔ مثلاً حضرت موسیٰ کا فرعون سے نرم زبان میں کلام کرنا (طہ ۴۴)، پیغمبروں کا اپنی مخاطب قوم سے یہ کہنا کہ ہم تو تمہاری ایذاؤں پر صبر ہی کریں گے (ابراہیم ۱۲)۔ مخالف لوگوں سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader