Urdu book · مطالعۂ حدیث

ربانیات

Urdu book, p. 196

By Maulana Wahiduddin Khan

کام کا صحیح طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق کار کیا تھا، اس سوال کا جواب حضرت عائشہ کی ایک روایت میں ملتا ہے: ما خير النبي صلى الله عليه وسلم بين أمرين إلا اختار ايسر هما۔ (صحیح البخاری، کتاب الحدود، باب اقامة الحدود)۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کو جب بھی دو امر میں سے ایک امر کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کا انتخاب فرماتے تھے۔ حدیث میں ایسر کا لفظ ہے۔ اس کی تشریح شارحین حدیث نے عام طور پر اُسہل کے لفظ سے کی ہے (فتح الباری ۶ / ۲۶۵) یعنی زیادہ سہل۔ مگر اسہل (سہل تر) کے لفظ سے اُس کی اصل حقیقت واضح نہیں ہوتی۔ پیغمبر اسلام اور دوسرے تمام پیغمبر، قرآن کے بیان کے مطابق، اولوالعزم پیغمبر (الاحقاف ۳۵) تھے۔ کوئی پیغمبر کبھی سہل پسند نہیں ہوتا۔ سہل پسندی پیغمبر کے مزاج کے خلاف ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس حدیث میں ایسر کا لفظ زیادہ قابلِ عمل کے معنی میں ہے، نہ کہ سادہ طور پر محض سہل کے معنی میں۔ حضرت عائشہ کی اس روایت کا مفہوم اگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی سیرت کی روشنی میں متعین کیا جائے تو اس سے پوری حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔ اگر لفظ بدل کر کہا جائے تو اس روایت میں ایسر سے مراد قابلِ حصول نقشۂ کار (available framework) ہے۔ ہر صورت حال میں دو عملی طریقہ ممکن ہوتا ہے۔ ایک وہ طریقہ جو بروقت موجود نقشہ ہی میں قابلِ عمل ہو۔ اور دوسرا طریقہ وہ جس کا تقاضا یہ ہو کہ پہلے موجود نقشہ کو بدلا جائے، اِس کے بعد ہی اپنا مطلوب عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ اُس نقشۂ کار میں اپنا عمل جاری کیا جو بروقت آپ کے لیے ممکن اور قابلِ حصول تھا۔ اس پیغمبرانہ طریق کار کی ایک مثال یہ ہے کہ قدیم مکہ میں آپ کو دین توحید کی تبلیغ کا کام کرنا تھا۔ اب اس کی دو صورتیں تھیں ۔ ایک یہ کہ کعبہ کے موجودہ اجتماع گاہ کو استعمال کیا جائے جہاں بتوں کی پوجا کے لیے لوگ پہلے سے اکٹھا ہوا کرتے تھے۔ دوسرے یہ کہ آپ اس سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page