Urdu book · مطالعۂ حدیث

ربانیات

Urdu book, p. 163

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلامی اصول عن حذيفة، عن النبى صلى الله عليه حضرت حذيفة رویت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم: قال: لا ينبغى لمسلم ان يذل نفسه۔ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کسی مسلمان کے لئے مناسب نہیں کہ قيل وكيف يذل نفسه۔ قال يتعرض من وہ اپنے آپ کو ذلیل کرے۔ پوچھا گیا کہ کوئی شخص کیسے البلاء لما لا يطيق۔ اپنے آپ کو ذلیل کرے گا۔ فرمایا کہ وہ ایسی بلا کا سامنا (مسند الامام احمد بن حنبل ۴۰۵/۵) کرے جس سے وہ مقابلہ کی طاقت نہ رکھتا ہو۔ اس حدیثِ رسول سے اسلامی زندگی کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ اجتماعی زندگی میں جب کسی کی طرف سے کوئی بلا یا کوئی ناپسندیدہ صورتحال پیش آئے تو اس وقت یہ درست نہیں ہے کہ آدمی بھڑک کر صاحبِ بلا سے ٹکر آجائے۔ بلکہ اس کو سوچ سمجھ کر یہ طے کرنا چاہئے کہ دو ممکن راستوں میں سے کون سا راستہ اس کے لئے زیادہ مناسب ہے۔ پہلی صورت یہ ہے کہ آدمی یہ محسوس کرے کہ اس کے پاس اتنی کافی قوت ہے کہ وہ کامیاب طور پر مقابلہ کر کے زیادتی کرنے والوں کو مجبور کر سکتا ہے کہ وہ اپنی زیادتی سے باز آئیں۔ اگر ایسا ہو تو آدمی کو چاہئے کہ وہ جم کر مقابلہ کرے تاکہ فساد ختم ہو اور اصلاح کی حالت قائم ہو جائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ٹھنڈے غور و فکر کے بعد آدمی اس نتیجہ پر پہنچے کہ دونوں فریقوں میں طاقت کا تناسب نا قابلِ عبور حد تک غیر متناسب ہے۔ حالات ایسے ہیں کہ اگر مقابلہ آرائی کا طریقہ اختیار کیا گیا تو بر عکس نتیجہ نکلے گا اور چھوٹا نقصان زیادہ بڑا نقصان بن جائے گا۔ اگر ایسا ہو تو لازم ہے کہ آدمی صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کرے۔ اور صاحبِ بلا سے نہ الجھے۔ مزید یہ کہ اعراض کا مطلب بزدلی نہیں ہے بلکہ وقفہ تیاری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے وقت اور اپنی طاقت کو ٹکر اور سے بچا کر مزید تیاری میں لگائے، وہ اپنے آپ کو زیادہ مستحکم بنانے کی تدبیر کرے ۔ تاکہ آئندہ کوئی شخص اس کے خلاف زیادتی کی ہمت نہ کرے، اور اگر کوئی زیادتی کی کار روائی کرے تو آدمی کے پاس اس کے توڑ کے لئے کافی طاقت موجود ہو۔ یہ بھی اسلام کے اصولوں میں سے ایک اہم اصول ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page