ربانیات
Urdu book, p. 175
By Maulana Wahiduddin Khan
حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن الحسن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ کسی مسلمان کے عن جندب عن حذیفة عن النبی صلی اللہ لیے مناسب نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کرے۔ علیہ وسلم قال : لا ینبغی لمسلم ان یذل پوچھا گیا کہ کیسے کوئی شخص خود اپنے کو ذلیل کرے نفسه۔ قیل وکیف یذل نفسه۔ قال : گا۔ آپ نے فرمایا کہ وہ ایسی بلا رکاسامنا يتعرض من البلاء لما لا یطیق۔ وکذا رواه کرے جس سے نبٹنے کی اسے طاقت نہ ہو۔ الترمذی وابن ماجه ۔ اس حدیث کی روشنی میں دیکھئے تو مذکورہ قسم کے واقعات میں پولیس یا اکثریتی فرقہ کی شکایت کرنا سراسر غیر مسنون فعل ہے ۔ ایسا ہر واقعہ خود اپنی غیر اسلامیت کی داستان ہے نہ کہ اغیار کے ظلم کی داستان ۔ کیوں کہ اس ملک میں مسلمان جب اقلیت میں ہیں اور جب یہ معلوم ہے کہ مسلمانوں کی منتشر دانہ کارروائی کے بعد پولیس آئے گی ۔ اور موجودہ حالت میں یہ بھی معلوم ہے کہ پولیس جب آئے گی تو وہ یک طرفہ طور پر مسلمانوں کی مار پیٹ کرے گی اور مسلمان اس کو ہر گز روک نہ سکیں گے ۔ ایسی صورت میں مذکورہ قول رسول کے مطابق ، مسنون طریقہ یہ ہے کہ مسلمان ابتدائی اشتعال کا واقعہ نہ کریں ۔ وہ ایسے آغاز سے اپنے آپ کو بچائیں جس کے متعلق معلوم ہے کہ اس کا انجام لازمی طور پر ان کے خلاف نکلے گا ۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ مومن ایک بل سے دو بار نہیں ڈسا جاتا ۔ ( المومن لا یلدغ من جحر مرتین ) مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ایک ہی بل میں وہ روزانہ ہاتھ ڈالتے ہیں اور ہر روز اس سے ڈسے جاتے ہیں ۔ کسی نادان شخص نے بھڑ کے چھتے میں صرف ایک بار ہاتھ ڈالا ہوگا۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ روزانہ بھڑ کے چھتے میں ہاتھ ڈال رہے ہیں اور روزانہ اس کا انجام بھگت رہے ہیں ۔ کیا اس کے باوجود ان کا یہ دعویٰ درست ہو سکتا ہے کہ اسلام کو وہ اپنا دین سمجھتے ہیں ۔ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رسول مانتے ہیں ۔ دین اور رسول کا مفہوم اگر وہی ہو جو لعنت کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے تو ان کا دعویٰ درست نہیں ۔ اور اگر مسلمانوں کا اپنا کوئی علیحدہ لغت ہو جس میں انھوں نے بطور خود ان الفاظ کا کوئی دوسرا مفہوم لکھ رکھا ہو تو البتہ ان کا دعویٰ درست ہو سکتا ہے ۔ مگر مسلمانوں کو جاننا چاہیے کہ ایسے کسی لغت کی قیمت ان کے اپنے نزدیک خواہ کتنی ہی زیادہ ہو، خدا اور خلق کے نزدیک اس کی کوئی قیمت نہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader