ربانیات
Urdu book, p. 178
By Maulana Wahiduddin Khan
علم کا حصول صحیح مسلم میں کتاب المساجد و مواضع الصلاة (باب اوقات الصلوات الخمس) کے تحت ایک روایت ان الفاظ میں نقل کی گئی ہے : عن عبد الله بن یحییٰ بن ابی کثیر عبداللہ بن یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ علم جسمانی راحت کے ساتھ نصیب نہیں ہوتا۔ قال سمعت ابی یقول: لا يُستطاع العلم براحة الجسم اس حدیث کا اگر چہ اوقات نماز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بظاہر یہ سمجھنا مشکل ہے کہ امام مسلم نے اس کو اوقات الصلوة کے باب کے تحت کیوں نقل کیا۔ تاہم اس سے قطع نظر، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علم کے حصول کے لیے جاں فشانی کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علم میں گہری بصیرت اس کے بغیر حاصل نہیں ہوتی کہ آدمی راحت و آرام سے بے پروا ہو کر اپنے آپ کو علم کے حصول کے لیے وقف کر دے۔ علم کے لیے تحقیق اور مطالعہ انتہائی حد تک ضروری ہے۔ جب آدمی صحیح معنوں میں تحقیق اور مطالعہ میں لگتا ہے تو مصروفیتوں کی ایک پوری دنیا اس کے سامنے کھل جاتی ہے۔ اس کو محسوس ہوتا ہے کہ کھانا، نیند، آرام اور دوسرے جسمانی تقاضوں کو نظر انداز کیے بغیر وہ اپنے تحقیق اور مطالعہ کے کام کو جاری نہیں رکھ سکتا۔ اس وقت جو آدمی علم کا سچا طالب ہو وہ دوسرے تمام تقاضوں کو ثانوی قرار دے کر ہمہ تن علم کے سمندر میں غرق ہو جاتا ہے۔ مگر یہ صرف ایک ظاہری بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علم میں مشغول ہونا خود ایک راحت ہے۔ آدمی جب علم کی دنیا میں داخل ہوتا ہے تو یہ تجربہ اس کے لیے اتنا لذیذ ہوتا ہے کہ وہ خود ہر قسم کے آرام کا بدل بن جاتا ہے۔ اب جسمانی راحت کو چھوڑنا راحت کو چھوڑنا نہیں ہوتا بلکہ چھوٹی راحت سے نکل کر زیادہ بڑی راحت کو پالینے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو علم کے طالب کے لیے ہر قسم کی بے آرامی کو قابل قبول بنا دیتی ہے۔ وہ بڑی چیز کو پانے کی خوشی میں چھوٹی چیز کے کھونے کو برداشت کر لیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader