ربانیات
Urdu book, p. 182
By Maulana Wahiduddin Khan
ترتيب و تدریج صحیح البخاری (کتاب فضائل القرآن، باب تالیف القرآن) میں حضرت عائشہ رضہ کی ایک روایت ہے ۔ وہ بتاتی ہیں کہ اسلام میں پہلے جنت و جہنم والی آیتیں اتریں۔ جب لوگوں کے اندر قبولیت کا مادہ پیدا ہو گیا تو اس کے بعد حرام و حلال کے احکام اترے۔ اگر شروع ہی میں یہ حکم اترتا کہ شراب چھوڑ دو اور زنا چھوڑ دو تو یقیناً لوگ کہتے کہ ہم تو کبھی شراب نہیں چھوڑیں گے ، ہم کبھی زنا نہیں چھوڑیں گے (لقالوا لا ندع الخمر ابداً ولا ندع الزنا ابداً) فتح الباری ۶۵۵/۸ احکام کو جاری کرنے کی یہ ترتیب صرف دور اول کے لیے نہیں ہے۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ ترتیب و تدریج صرف ابتدائی دور کے لیے تھی جب کہ قرآن اتر رہا تھا ، اب جبکہ قرآن پورا اتر چکا تو اب وہ بیک وقت پورا نافذ بھی کیا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ احکام کے اجراء اور نفاذ کا تعلق معاشرہ کی ایمانی اور اخلاقی حالت سے ہے۔ جب بھی لوگوں میں ایمانی اور اخلاقی کمزوری پائی جائے گی تو دوبارہ وہی ترتیب مطلوب ہو جائے گی جو دور اول میں مطلوب تھی۔ مورخین اسلام نے خلیفہ عادل حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ کے بارہ میں لکھا ہے کہ خلیفہ ہو جانے کے باوجود انھوں نے سارے شرعی احکام بیک بار نافذ نہیں کیے۔ ان کے نوجوان صاحبزاد ہ عبدالملک نے ایک دن کہا کہ کیا وجہ ہے کہ آپ تمام شرعی احکام کو نافذ نہیں کر رہے ہیں۔ اب آپ اس قوم کے خلیفہ ہیں، تمام شرعی احکام کو نافذ کر کے آپ موجودہ تمام ظلم و فساد کو ختم کر دیجئے ۔ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز نے جواب دیا : لا تعجل يا بنی، فان الله ذم الخمر فی اے میرے بیٹے، جلدی نہ کرو۔ کیوں کہ اللہ نے القرآن مرتین و حرمها فی الثالثة۔ شراب کی دو بار مذمت کی اور پھر تیسری بار اس کو حرام وانی اخاف ان احمل الحق علی الناس کیا۔ میں ڈرتا ہوں کہ اگر میں حق کو بیک وقت جملة فید فعونه جملة ويكون لوگوں کے اوپر لاد دوں تو وہ اس کو بیک وقت من ذا فتنة ۔ اتار پھینکیں گے ۔ اور پھر ایک نیا فتنہ پیدا ( المجله - ۱۸- ۲۴ فروری ۱۹۹۶ء، صفحہ ۳۵) ہو جائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader