حسنِ نیت
Urdu book, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
سب سے پہلے پوری مسلم دنیا میں مغربی استعمار کے خلاف تحریک اٹھائی گئی۔ مگر لمبی خونیں جدوجہد کے بعد جب مغربی استعمار کا خاتمہ ہوا تو معلوم ہوا کہ ہر مسلم ملک میں مغرب پسند مسلمان لیڈروں نے حکمرانی کے مقام پر قبضہ کر لیا ہے۔ اب ان مسلم حکمرانوں کے خلاف تحریکیں شروع ہوئیں۔ کسی کو جلا وطن کیا گیا، کسی کو گولی ماری گئی۔ کسی کو پھانسی دی گئی۔ ابھی یہ عمل جاری تھا کہ معلوم ہوا کہ میڈیا اور ٹی وی کے ذریعہ مغربی تہذیب ہر مسلم گھر میں نئے راستوں سے داخل ہو گئی ہے۔ اب ملکی ٹی وی اسٹیشنوں کو توڑنے کی مہم شروع ہوئی۔ مگر فتح کے نعروں کے درمیان انکشاف ہوا کہ غیر مسلم ملکوں کی ٹی وی نشریات فضا کے ذریعہ ہر مسلم گھر میں داخل ہو رہی ہیں۔ مسلم عورتوں اور مسلم مرد انہیں انتہائی دلچسپی کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ اب چھتوں کے ڈش انٹینا توڑے جانے لگے تا کہ مسلمان غیر ملکی ٹی وی نہ دیکھ سکیں ۔ مگر عین اسی وقت معلوم ہوا کہ دنیا انٹرنیٹ کے دور میں داخل ہو گئی ہے۔ اب حال یہ ہے کہ جن اخبارات کے دفتروں کو مسلم ملکوں میں جلایا جاتا ہے یا جن کتابوں کو مسلم دشمن بتا کر ان کے اوپر پابندی (ban) لگائی جاتی ہے وہ سب کے سب انٹرنیٹ کے ذریعہ پہلے سے بھی زیادہ بڑے پیمانہ پر ساری دنیا میں پہنچ رہی ہیں۔ اور انٹرنیٹ وہ بلا ہے جس کے پھیلاؤ کو روکنا کسی سپر پاور کے بس میں بھی نہیں۔ غلطی کہاں ہے یہاں سوال یہ ہے کہ اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اہل ایمان کی کوششوں کو بار آور کرے گا پھر موجودہ زمانہ میں برعکس طور پر کیوں ایسا ہو رہا ہے کہ مسلم رہنماؤں کی کوششیں ایک کے بعد ایک مکمل طور پر بے نتیجہ ہوتی جا رہی ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان نام نہاد اسلامی قائدین کا نشانہ عمل ہی غلط تھا۔ وہ اپنی تمام کوششیں سسٹم کو بدلنے پر لگاتے رہے۔ جب کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ فرد کو بدلنے پر ساری کوشش صرف کی جائے۔ سسٹم پر عمل کرنا درخت کی شاخوں پر عمل کرنا ہے۔ اور فرد یا ذہن پر عمل کرنا درخت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader