Urdu book · مطالعۂ حدیث

ربانیات

Urdu book, p. 192

By Maulana Wahiduddin Khan

تالیف قلب قرآن کی سورہ نمبر ۹ میں بتایا گیا ہے کہ زکوۃ (صدقات) کے خرچ کی مدیں کیا کیا ہیں اور وہ کن لوگوں کو دی جائیں گی۔ ان مستحقین میں سے ایک قسم وہ ہے جن کو قرآن میں مولفۃ القلوب کہا گیا ہے (التوبہ ۶۰)۔ یعنی وہ لوگ جن کی دلجوئی کرنا مقصود ہو۔ اس سے مراد وہ افراد ہیں جن کو اسلام کی طرف راغب کرنا ہو یا وہ اسلام قبول کرنے کے باوجود کمزور ہوں اور انہیں ایمان پر مستحکم کرنے کے لئے مالی دلجوئی کی ضرورت ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانہ میں دونوں قسم کے لوگوں کو اس مقصد کے لیے یہ عطیات دئے۔ مثلاً نومسلموں میں اقرع بن حابس کو، اور غیر مسلموں میں صفوان بن امیہ کو، وغیرہ۔ بعد کو عباسی خلافت کے زمانہ میں جب اسلامی فقہ کی تدوین ہوئی تو بیشتر علماء اس کے قائل ہو گئے کہ اسلام کے عزت اور غلبہ کے بعد اب مولفۃ القلوب کی مد ساقط اور منقطع ہو چکی ہے۔ مفسر القرطبی نے لکھا ہے کہ: انقطع هذا الصنف بعز الإسلام و ظهوره (الجامع لأحكام القرآن، ۱۸۱/۸)۔ تالیف قلب کا یہ مسئلہ کسی بھی کتاب کے متعلق ابواب میں دیکھا جا سکتا ہے۔ مثلاً قاضی محمد ثناء اللہ العثمانی نے یہ بتاتے ہوئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانہ میں مولفۃ القلوب کو ترغیب کے لیے خمس یا زکوۃ میں سے عطیات دئے، لکھتے ہیں: وأما اليوم فقد أعز الله تعالى الإسلام و له الحمد وأغناه عن أن يتألف عليه رجال فلا يعطى مشرك تالفا بحال و قد قال بهذا كثير من أهل العلم أن المؤلفة منقطعة و سهمهم ساقط (التفسير المظهری، ۲/ ۲۳۲) یعنی جہاں تک آج کا تعلق ہے، تو اب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزت و طاقت دے دی ہے اور اسلام کو اس سے مستغنی کر دیا ہے کہ کسی کی تالیف قلب کی جائے۔ پس کسی بھی مشرک کو کسی بھی حال میں تالیف قلب کے لئے کچھ نہیں دیا جائے گا۔ اور اکثر اہل علم کا یہی قول ہے کہ مولفۃ القلوب کی مد منقطع ہے اور ان کا حصہ ساقط ہو چکا ہے۔ (نیز ملاحظہ ہو، فتح القدیر للشوکانی ۲/ ۴۷۳) بعد کے زمانہ کے اکثر علماء کا مسلک یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page