Urdu book · مطالعۂ حدیث

ربانیات

Urdu book, p. 194

By Maulana Wahiduddin Khan

موعظت حسنہ (النحل ۱۲۵)، وغیرہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی تو آپ نے بنو ہاشم کے لوگوں کو اپنے گھر پر بلایا تاکہ انہیں توحید کا پیغام دیں۔ اس موقع پر آپ نے پہلے ان کی تواضع کی اور انہیں دودھ پلایا۔ جب وہ اس سے فارغ ہو گئے تو اس کے بعد آپ نے انہیں نبوت کا پیغام دیا۔ یہ بھی مدعو کے حق میں تالیف قلب کی ایک صورت تھی۔ (مسند احمد، الجزء الاول، صفحه ۱۵۹) تالیف قلب دراصل ایک جامع حکم ہے جس کی مختلف صورتیں ہیں۔ مثلاً ایک بدو مدینہ کی مسجد نبوی میں آیا۔ اُس نے مسجد کے اندر پیشاب کر دیا۔ لوگ اس کو مارنے کے لیے دوڑے تو آپ نے لوگوں کو منع کر دیا اور بدو کو زجر و توبیخ کے بغیر واپس کر دیا۔ یہ بھی تالیف قلب کی ایک صورت تھی۔ اسی طرح قبیلہ دُوس کے طفیل بن عمرو الدوسی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد وہ اپنی قوم کی طرف واپس گئے اور اس کو اسلام کی دعوت دی۔ مگر قوم نے اسلام قبول نہیں کیا بلکہ ان کو ستایا اور سرکشی کا معاملہ کیا۔ وہ دوبارہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور قبیلہ کی شکایت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ دُوس کے حق میں دعا کی اور طفیل بن عمر والدوسی سے کہا کہ تم اپنی قوم کی طرف واپس جاؤ، اس کو اسلام کی طرف دعوت دو اور اس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرو (ارجع الى قومك فادعهم وارفق بهم)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ہدایت بھی مدعو کے حق میں تالیف قلب کی ایک مثال ہے۔ (سیرت ابن هشام، الجزء الاول، صفحه ۲۰۹) جو لوگ مؤلفۃ القلوب کے حصہ کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد منقطع یا منسوخ مانتے ہیں ان کی اس رائے کی ایک خاص بنیاد حضرت عمر فاروق کا ایک واقعہ ہے۔ ابن ہمام کی روایت ہے کہ عيینہ اور اقرع خلیفہ ابو بکر صدیق کے پاس آئے اور ایک زمین کی مانگ کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس سے پہلے تالیف قلب کے طور پر کچھ مال دیا تھا۔ ان کی مانگ پر ان کے لیے حضرت ابو بکر نے ایک تحریر لکھ کردی۔ حالانکہ یہ دونوں مدینہ کے صاحب ثروت افراد تھے۔ یہ دونوں جب باہر آئے تو ان کی ملاقات حضرت عمر فاروق سے ہوئی۔ حضرت عمر نے تحریر کو لے کر پھاڑ دیا اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ اس کے بعد یہ معاملہ خلیفہ ابو بکر صدیق کے سامنے آیا۔ حضرت عمر نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ چیز تم کو تالیف قلب کے لیے دی تھی۔ اب اللہ نے اسلام کو طاقتور بنا دیا ہے اور اس کو تم سے بے نیاز کر دیا ہے۔ حضرت ابو بکر نے حضرت عمر کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page