حسنِ نیت
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
صحیح مسلم، ابن ماجہ، الدارمی وغیرہ میں آئی ہے۔ صحیح البخاری (کتاب الایمان) کے الفاظ یہ ہیں: الا و إن فی الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله، وإذا فسدت فسد الجسد كله، ألا وهي القلب (سن لو کہ انسان کے جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہوتا ہے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے اور جب وہ بگڑتا ہے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔ سن لو کہ وہ قلب ہے)۔ اسلام میں انسان کی جو اہم صفات بتائی گئی ہیں ان سب کا تعلق قلب سے ہے۔ مثلاً معرفت، اخلاص، حسن نیت، تقویٰ، شکر، خشوع، تضرع، انابت، اخبات، وغیرہ، سب کا سرچشمہ قلب ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلام کی پوری تحریک قلب پر مبنی ہے۔ قرآن کے الفاظ میں، انسان سے جو چیز مطلوب ہے وہ داخل القلب ایمان (الحجرات ۱۴) ہے ۔ اسلام پہلے قلب کے اندر جڑ پکڑتا ہے، اس کے بعد وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنا نتیجہ ظاہر کرتا ہے۔ یہ قلب کہاں ہوتا ہے ۔ قلب نہ سماج میں ہوتا ہے اور نہ حکومتی ادارہ یا سیاسی نظام میں ۔ قلب ہمیشہ ایک فرد انسانی میں ہوتا ہے۔ سماج یا سیاسی ادارہ افراد ہی کے مجموعے کا ایک علامتی نام ہے۔ افراد سے الگ ہو کر سماجی نظام یا سیاسی ادارہ کا کوئی وجود ہی نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام کی تحریک کا اصل نشانہ فرد ہے، سماجی یا سیاسی نظام اسلامی تحریک کا براہ راست نشانہ نہیں۔ اسلام کا تقاضہ ہے کہ اصلاح کی ساری کوشش افراد انسانی پر جاری کی جائے کیوں کہ افراد ہی کی اصلاح سے اجتماعی زندگی کی اصلاح ہوگی، اور افراد ہی کے بگڑنے سے اجتماعی زندگی بگڑ جائے گی۔ اسلامی تاریخ کی مثال اسلامی تاریخ اس اصول کی ایک نہایت کامیاب مثال ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد امت کو جو ہدایات دیں، ان میں ایک انتہائی اہم ہدایت یہ تھی کہ سیاسی نظام میں بگاڑ ہو تب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader