Urdu book · مطالعۂ حدیث

دعوت

Urdu book, p. 206

By Maulana Wahiduddin Khan

دعوتی ذمہ داری پیغمبر اسلام ﷺ کی حیثیت داعی کی تھی، آپ کی تبعیت میں آپ کی امت کی حیثیت بھی داعی کی ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اے رسول، کہو کہ یہ میرا راستہ ہے۔ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، سمجھ بوجھ کر، میں بھی اور وہ لوگ بھی جنہوں نے میری پیروی کی ہے (قل هذه سبیلی ادعوا الی اللہ علی بصیرۃ انا ومن اتبعنی) یوسف ۱۰۸ رسول اللہ ﷺ پیغمبر ہونے کے ساتھ پیغمبر آخرالزماں بھی تھے۔ آپ آخری پیغمبر تھے۔ اس اعتبار سے آپ کی دعوتی ذمہ داری قیامت تک وسیع تھی۔ آپ کو قیامت تک پیدا ہونے والے تمام انسانوں کو توحید کی حقیقت سے باخبر کرنا تھا۔ مگر ایک عمر کو پہنچ کر رسول اللہ ﷺ کی وفات ہو گئی۔ اس لئے سوال ہے کہ اب یہ ذمہ داری کس کے اوپر ہے۔ اب یہ ذمہ داری امت محمدی پر ہے۔ امت محمدی کو آپ کی نیابت میں قیامت تک یہ فریضہ ادا کرنا ہے۔ حدیث میں ہے: مالی أمسك بحجزكم عن النار، الا وان ربی داعی وانہ سائلی هل بلغت عبادی۔ فاقول رب قد بلغت۔ الا فلیبلغ شاهدكم غائبکم (حياة الصحابه ۷۷/۱) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں تم لوگوں کی کمر پکڑ کر تم کو آگ سے بچاؤں۔ سن لو کہ میرا رب مجھے بلائے گا اور بے شک وہ مجھ سے سوال کرے گا۔ کیا تم نے میرے بندوں تک میرا پیغام پہنچادیا۔ میں کہوں گا کہ ہاں میرے رب، میں نے پہنچا دیا۔ سن لو، تمہارا حاضر تمہارے غائب تک پہنچادے۔ اس حدیث کے مطابق ، رسول اللہ ﷺ گویا اپنی امت کے ایک ایک فرد کو ہدایت دے رہے ہیں کہ میرے بعد تم قیامت تک میرے دعوتی مشن کو جاری رکھو، دوسرے لفظوں میں یہ کہ مجھے یہ موقع دو کہ میں اللہ تعالیٰ کے یہاں یہ کہہ سکوں کہ میں نے قیامت تک کے تمام لوگوں پر اپنی دعوتی ذمہ داری پوری کردی، اپنی حیات میں براہ راست طور پر، اور اپنی حیات کے بعد بالواسطہ طور پر۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page