دعوت
Urdu book, p. 208
By Maulana Wahiduddin Khan
اجنبی دین امام مسلم بن الحجاج نے اپنی " صحیح " میں کتاب الایمان کے تحت ایک باب ان الفاظ میں قائم کیا ہے : باب بیان ان الاسلام بدأ غریبا وسیعود غریبا وانہ يأرز بین المسجدین۔ اس باب کے ذیل میں انھوں نے تین روایتیں نقل کی ہیں۔ ایک روایت یہ ہے : عن ابی ھریرۃ ہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدأ الاسلام غریبا علیہ وسلم نے فرمایا۔ اسلام اجنبی کی حیثیت سے وسیعود كما بدأ غریبا۔ فطوبی شروع ہوا اور پھر اسی اجنبی حالت کی طرف لوٹ للغرباء ۔ جائے گا جیسا کہ جیسا کہ شروع ہوا تھا۔ پس خیر و سعادت ہے اجنبیوں کے لیے ۔ اسلام ساتویں صدی کے عرب میں بنواسماعیل کے درمیان آیا۔ بنواسماعیل اصلاً ملت ابراہیمی سے تعلق رکھتے تھے۔ مگر ان کے اور حضرت ابراہیم کے درمیان ڈھائی ہزار سال کا فاصلہ تھا۔ لمبی مدت کے نتیجہ میں ان کے اندر دینی بگاڑ آچکا تھا ، وہ دین ابراہیم کے نام سے صرف دین آباد کو جانتے تھے۔ اس بنا پر ابتداً ان کے لیے پیغمبر اسلام کے پیغام کو سمجھنا مشکل بنا رہا۔ حدیث کے مطابق ، خود ملت مسلمہ کی یہی حالت اس وقت ہو جائے گی جب کہ وہ زوال کا شکار ہو جائے۔ جب کہ وہ اسلام کی اسپرٹ کو کھو دے اور ایک خود ساختہ اسلام اس کے درمیان باقی رہے ۔ امت پر جب یہ وقت آتا ہے تو وہ دین کے نام سے صرف دین اکابر کو جانتی ہے اور دین خدا اس کے لیے اجنبی چیز ہو جاتا ہے۔ قومی خواہشوں سے مطابقت کرنے والا دین اس کو دین نظر آتا ہے اور اصولوں پر مبنی دین اس کے لیے ناقابل فہم چیز بن جاتا ہے۔ ظواہر دین کی دھوم مچانے کو ایسے لوگ کام سمجھتے ہیں اور حقیقت دین کی بات انھیں اپنے لیے نامانوس دکھائی دیتی ہے۔ ایسے ماحول میں جو لوگ قرن اول والا دین اختیار کریں وہ دوبارہ لوگوں کو اجنبی دکھائی دینے لگتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader