Urdu book · مطالعۂ حدیث

دعوت

Urdu book, p. 213

By Maulana Wahiduddin Khan

دینی تعلیم کا مقصد حدیث میں آیا ہے کہ علم کو حاصل کرنا فرض ہے (ان طلب العلم فریضۃ) علم کی اسی اہمیت کی بنا پر اہلِ اسلام نے ہر دور میں دینی تعلیم کے ادارے قائم کیے ۔ ان تعلیمی اداروں کی نوعیت کیا ہے ، اس کو بتانے کے لیے قرآن کی حسب ذیل آیت بلاشبہ ایک رہنما آیت ہے : وما كان المؤمنون لينفروا كافة ، اور یہ ممکن نہ تھا کہ اہل ایمان سب کے سب نکل فلولا نفر من كل فرقة منهم طائفة کھڑے ہوں ، تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ ليتفقهوا في الدين ولينذروا قومهم میں سے ایک حصہ نکل کر آتا تاکہ وہ دین میں سمجھ اذا رجعوا اليهم لعلهم يحذرون - پیدا کرتا اور واپس جا کر اپنی قوم کے لوگوں کو ( التوبہ ۱۲۲ ) آگاہ کرتا تاکہ وہ پر ہیز کرنے والے بنتے۔ القرطبی نے لکھا ہے کہ طلب علم کے وجوب کے لیے یہ آیت اصل کی حیثیت رکھتی ہے ( هذه الآية اصل فى وجوب طلب العلم ) اس سے معلوم ہوا کہ تعلیم دین سے مراد حقیقتاً فقہ فی الدین ہے ۔ تعلیم دین کو جانچنے کا قرآنی معیار صرف ایک ہے ۔ اور وہ خود قرآن کے لفظ میں ، تفقه ہے۔ القرطبی نے ليتفقهوا کی تشریح يتبصروا کے لفظ سے کی ہے ۔ یعنی تفقه کا مطلب ہے بصیرت حاصل کرنا۔ الراغب الاصفہانی نے لکھا ہے کہ فقہ کا مطلب علم شاہد سے علم غائب تک پہنچنا ہے ، اس طرح فقہ زیادہ خاص ہے علم سے ( الفقہ ھو التوصل الى علم غائب بعلم شاهد فهو اخص من العدم) فقہ حاصل کیا کا مطلب ہوتا ہے فہم حاصل کیا ( فقھہ ای فهمه لسان العرب میں ہے کہ فقہ اصل میں فہم کو کہتے ہیں ( الفقہ فی الاصل الفهم) اس سے معلوم ہوا کہ دینی مدارس کا اصل نشانہ کیا ہونا چاہیے ۔ وہ یہ ہونا چاہیے کہ جو لوگ یہاں تعلیم و تربیت حاصل کر کے نکلیں وہ فقہ فی الدین کی صلاحیت کے حامل ہوں ۔ تفقه سے مراد جزئیات دین کی مہارت نہیں ہے ، بلکہ تفقه سے مراد اساسات دین میں فہم وبصیرت ہے۔ خاص طور پر یہ صلاحیت کہ آدمی ظاہری معلومات کے ذریعہ باطنی حقائق تک پہنچنے کے قابل ہو جائے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page