دعوت
Urdu book, p. 216
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے ذریعہ ابو طالب کے سامنے دعوت پوری طرح آ چکی تھی، مگر شبہ کا ایک عنصر پھر بھی ان کے لیے باقی تھا۔ وہ یہ کہ کیا یہ میرا بھتیجا اور عبداللہ کا بیٹا حق پر ہے اور سارے اکابر قوم ،بشمول عبد المطلب، غلطی پر تھے۔ ابو طالب شبہ کا یہ پردہ پھاڑ نہ سکے، اس لیے وہ ہدایت کو قبول کرنے سے بھی محروم رہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ جنت ایک خدائی سودا ہے، اور وہ بہت مہنگا سودا ہے (الآن سلعة الله غالية، الآن سلعة الله الجنة) جو شخص جنت کے اس مہنگے سودے کا خریدار بننا چاہے، اس کو اس کی مطلوبہ قیمت دینی پڑے گی۔ اس قیمت کی ادائیگی کے بغیر وہ جنت کا مالک نہیں بن سکتا۔ وہ قیمت یہی شبہ کے عنصر کو عبور کرنا ہے، وہ شبہ کے اسی پردہ کو پھاڑنا ہے۔ اسی نازک عمل کی ادائیگی پر آدمی کو دنیا میں ہدایت ملتی ہے اور آخرت میں ابدی جنت ۔ جنت ان نفیس اور لطیف روحوں کی آبادی ہے جو تمام ظاہری برائیوں سے گزر کر خدا کی چھپی ہوئی برائی کو پالیں۔ جو جوہر کی بنیاد پر چیزوں کو پہچانے کا ثبوت دیں۔ جو ہنگامہ کی دنیا سے نکل کر خاموشی کی بزم میں پہنچ سکیں ۔ جو ظواہر سے آگے بڑھ کر حقائق کو دیکھ سکیں ۔ جو اکابر کے گنبدوں سے اوپر اٹھ کر سچائی کو وہاں دریافت کر لیں، جہاں وہ بے گنبد حالت میں ظاہر کی گئی ہے۔ جنت بینا انسانوں کے لیے ہے، وہ اندھے انسانوں کے لیے نہیں۔ وہ اصحاب معرفت کے لیے ہے، وہ ظاہر پرستوں کے لیے نہیں۔ وہ ارباب اکتشاف کے لیے ہے، وہ جامد مقلدوں کے لیے نہیں۔ جنت ربانی لوگوں کے لیے ہے، اور بلاشبہ ربانی لوگوں ہی کو جنت میں داخلہ دیا جائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader