Urdu book · مطالعۂ حدیث

حسنِ نیت

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

حکمرانی کو زمین پر قائم کریں۔ قرآن کے لازم کو متعدی بنا کر یہ کیا کہ عدل کی پیروی کرنے کے بجائے عدل کا جھنڈا اٹھانے کو مسلمانوں کا فریضہ منصبی قرار دیا۔ انہوں نے دعوت کو عملی شہادت سے جوڑ کر یہ ذہن نشین کرانے کی کوشش کی کہ جب تک سیاسی اقتدار پر قبضہ کر کے زندگی کے تمام شعبوں میں اسلامی قوانین جاری نہ کئے جائیں اس وقت تک دعوت و شہادت کا کام انجام ہی نہیں بریں ماں میں اصلاح کی جاتی ہے، باروں میں ناشتہ کیا جا سکتا ہے، وغیرہ۔ اس قسم کا ہر تبصرہ سراسر مغرضانہ تبصرہ ہے ۔ وہ اسلام کے نور ؀ِ ے ڈھانچے کو بدل دینے والی ہے۔ اس م کی ہر بصیر سر اسر عرفانہ بصیر ہے۔ وہ اسلام کے پورے دھاگے کو بدل دیے دیئے دائی ہے۔ ان تعبیرات کا نتیجہ صرف یہ ہوسکتا ہے کہ ان سے متاثر ہونے والوں کے اندر احتسابِ خویش کے بجائے احتسابِ غیر کا مزاج پیدا ہو۔ ان کے اندر متقیانہ ذہن کے بجائے سیاسی ذہن تشکیل پائے، وہ اہلِ عالم کو مدعو کے بجائے حریف کی نظر سے دیکھنے لگیں، وہ محبتِ انسانیت کے بجائے نفرتِ انسانیت میں جینے لگیں ۔ وہ مسلم معاشرہ کو حکمراں اور غیر حکمراں میں تقسیم کر کے لامناہی قسم کی باہمی نزاع چھیڑ دیں ۔ وہ لوگوں کو تعمیری کام کے بجائے تخریبی کام میں مشغول کر دیں ۔ خلاصہ یہ کہ اسلام کے نام پر وہ ر ہیں نہ راہ زن رہیں ، ا سکے باعث رہیں، اس کی لوگوں کو غیر اسلام کی راہوں میں دوڑادیں۔ ہِہ | ہِہ | ہِہ ہِہ ہِہ ہِہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page