Urdu book · مطالعۂ حدیث

خواتین

Urdu book, p. 241

By Maulana Wahiduddin Khan

بڑا کام امام طبرانی (۳۶۰-۲۶۰ھ) مشہور محدث ہیں۔ وہ شام میں پیدا ہوئے اور اصفہان میں وفات پائی۔ انھوں نے المعجم الکبیر میں ایک مفصل روایت عبداللہ بن عباسؓ کے واسطے سے نقل کی ہے۔ اس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: ثم جاء ته یعنی النبی ﷺ امرأة، فقالت انی رسول النساء الیک، وما منهن امراة علمت او لم تعلم الا وهي تهوى مخرجي اليك، الله رب الرجال والنساء والآلههن، وانت رسول الله الى الرجال والنساء كتب الله الجهاد على الرجال فان اصابوا اجروا، وان استشهدوا كانوا احياء عند ربهم يرزقون، فما يعدل ذالك من اعمالهم من الطاعة؟ قال طاعة ازواجهن و المعرفة بحقوقهم، وقليل منكن من يفعله پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک عورت آئی۔ اس نے کہا کہ میں عورتوں کی طرف سے بھیجی ہوئی آپ کے پاس آئی ہوں۔ اور ہر عورت خواہ وہ جانتی ہو یا نہ جانتی ہو، وہ چاہتی ہے کہ میں آپ سے مل کر معلوم کروں۔ اللہ مردوں کا رب بھی ہے اور عورتوں کا رب بھی۔ اور آپ مردوں کے پیغمبر بھی ہیں اور عورتوں کے پیغمبر بھی۔ اللہ نے مردوں کے لئے جہاد لکھا ہے۔ اگر وہ جہاد کریں تو اجر پائیں اور اگر شہید ہو جائیں تو وہ اپنے رب کے پاس زندہ رہیں اور رزق پائیں۔ پھر عورتوں کے لئے اس عمل کے برابر کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ان کا عمل یہ ہے کہ وہ اپنے شوہروں کی اطاعت کریں اور ان کے حقوق کو پہچانیں۔ لیکن تم میں بہت کم عورتیں ہیں جو ایسا کرتی ہیں۔ جنگ کے میدان میں لڑنا وہ کام ہے جو آدمی کو فوراً نمایاں کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس گھر کی چہار دیواری کے اندر روزمرہ کی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ایک ایسا کام ہے جو کسی کے لئے شہرت کا باعث نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ پہلے کام کی طرف فوراً راغب ہو جاتے ہیں، مگر دوسرے کام میں وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page