Urdu book · مطالعۂ حدیث

خواتین

Urdu book, p. 245

By Maulana Wahiduddin Khan

تحریر: ہے صحابی کا عمل ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ یہاں ہم بخاری اور ترمذی کے الفاظ نقل کرتے ہیں: عن ابى بكرة رضى الله عنه قال - لقد نفعنى الله بكلمة سمعتها من رسول الله صلى الله عليه وسلم ايام الجمل بعد ما كدت ان الحق باصحاب الجمل فاقاتل معهم - قال لما بلغ رسول الله صلى الله عليه وسلم ان اهل فارس ملكوا عليهم بنت كسرى قال : لن يفلح قوم ولوا امرهم امرأة (رواه البخارى) وفى رواية الترمذى قال : عصمنى الله عز وجل بشئ سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم - لما هلك كسرى قال من استخلفوا - قالوا ابنته - فقال النبى صلى الله عليه وسلم : لن يفلح قوم ولوا امرهم امرأة فلما قدمت عائشة ، يعنى البصرة، ذكرت قول رسول الله صلى الله عليه وسلم فعصمنى الله به - حضرت ابوبکرہ کہتے ہیں کہ اللہ نے ایک قول کے ذریعہ مجھ کو جنگ جمل کے زمانہ میں فائدہ پہونچایا۔ قریب تھا کہ میں اصحاب جمل سے مل جاؤں اور ان کے ساتھ جنگ کروں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی کہ اہل فارس نے اپنے اوپر کسریٰ کی لڑکی کو حاکم بنایا ہے تو آپ نے فرمایا کہ وہ قوم ہرگز فلاح نہیں پائے گی جو عورت کو اپنے معاملہ کا حاکم بنائے۔ ترمذی کی روایت کے مطابق انھوں نے کہا کہ اللہ نے مجھے ایک چیز کے ذریعہ بچالیا جس کو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ جب کسریٰ کی موت ہوئی تو آپ نے پوچھا کہ انھوں نے کس کو اس کا جانشین بنایا۔ لوگوں نے کہا کہ اس کی لڑکی کو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ قوم ہرگز فلاح نہیں پائے گی جو عورت کو اپنے معاملہ کا حاکم بنائے۔ راوی کہتے ہیں کہ جب عائشہ بصرہ آئیں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کو یاد کیا تو اللہ نے اس کے ذریعہ سے مجھ کو بچالیا۔ حضرت عائشہ کی حیثیت ام المومنین کی تھی۔ اس کے باوجود جب عائشہ کی بات اور رسول کی بات میں ٹکراؤ ہوا تو صحابی نے عائشہ کو چھوڑ کر رسول کی بات کو پکڑ لیا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے "اکابر" کا ساتھ دیتے ہیں، خواہ ان کے اکابر کی روش قرآن و سنت کے تقاضوں کے سراسر خلاف ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page